بی جے پی حکومت پہلے دن سے ہی غریب مخالف رہی ہے:اکھلیش

وزیر اعظم غریب کلیان ان اسکیم میں گیہوں کا کوٹہ منسوخ کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ جون مہینے سے غریبوں کو گیہوں کی جگہ چاول ملے گا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سماج وادی پارٹی کے قومی صدرا کھلیش یادو نے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد روزمرہ کے استعمال کی ہر چیزیں مہنگی ہونے کی وجہ سے عام آدمی کا گذر بسر بیحد مشکل ہوگیا ہے اور ریاست میں اس حالت سے بی جے پی حکومت کے غریب اور کسان خیر خواہ ہونے کے جھوٹے دعوؤں کی پول کھل گئی ہے۔

اکھلیش کے حوالے سے ہفتہ کو ایس پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن سے پہلے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے، ان کا احترام کرنے اور غریبوں ک چولہے ٹھنڈے نہ ہونے دینے کے بڑے بڑے اعلانات کئے گئے تھے۔ وزیر اعظم غریب کلیان ان اسکیم میں گیہوں کا کوٹہ منسوخ کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ جون مہینے سے غریبوں کو گیہوں کی جگہ چاول ملے گا۔


ابھی تک تین کلو گیہوں اور 02کلو چاول تقسیم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا۔ الیکشن ختم ہونے کے بعد کسانوں سے سمان ندھی کی رقم واپس کئے جانے کے نوٹس جاری ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اس بار گیہوں میں کسانوں کے مفاد کے اوپر سرمایہ کاروں کے مفاد کو فوقیت دی ہے۔ گیہوں کی سرکاری خرید کی جگہ 05بڑی کمپنیوں کو گیہوں فروخت کردیا گیا۔

اترپردیش میں گیہوں خریدکا ہدف 60لاکھ میٹرک ٹن تھا جبکہ محض 2.35لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی خرید ہوئی ہے۔ خرید مرکز پر کم خرید کے علاوہ گیہوں پیدوار کم ہونے کی بھی خبر ہے۔ اس کے نتائج کے طور پر بازار میں آٹا مہنگا ہوگا۔ اس سے بڑے کاروباریوں اور ان کی کمپنیوں کا منافع بڑھے گا۔


ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ درحقیقت بی جے پی کی منشی کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا کبھی تھا ہی نہیں اور نہ ہے۔ اگر حکومت کسانوں کو گیہوں کا فائدہ دینا چاہتی تھی تو کم از کم سہارا قیمت 2500 روپئے فی کوئنٹل ہونی چاہئے تھی۔ سرکاری خرید مراکز پر کسانوں کو پریشان کیا جاتا رہا ہے۔

اکھلیش نے کہا کہ عام لوگوں کی روٹی پر آٹا مافیاؤں کا غیر قانونی قبضہ ہوتا جارہا ہے۔ بی جے پی غریب کو ہی مٹانے کی چال چل رہی ہے۔بی جے پی کے معاشی ایجنڈے میں نہ کسان ہیں اور نہ غریب صارف۔ بی جے پی اول دن سے ہی کسان مخالف رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔