اجیت پوار طیارہ حادثہ: روہت پوار نے وزیر برائے شہری ہوابازی کا استعفیٰ مانگا، پریس کانفرنس میں اٹھائے کئی سوالات
روہت پوار نے کہا کہ ڈی جی سی اے کے کچھ افسران کمپنی کو بچانے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملہ کو ترجیحی بنیاد پر اٹھائیں۔
این سی پی رہنما اجیت پوار کے طیارہ حادثہ سے متعلق این سی پی (ایس پی) کے لیڈر روہت پوار نے ہفتہ کے روز پریس کانفرنس کر سنگین سوالات اٹھائے۔ انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی کے رام موہن نائیڈو کا استعفیٰ بھی مانگا۔ روہت پوار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس طیارہ حادثہ کے حوالہ سے اپنی سطح پر جانچ کی ہے، جس میں کئی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جس وی ایس آر وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا یہ طیارہ تھا، اسے کوئی بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے وی ایس آر اور نائیڈو کے درمیان تعلقات کی بھی جانچ کا مطالبہ کیا۔
روہت پوار نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ 28 جنوری کو پیش آئے طیارہ حادثہ کی جانچ مکمل ہونے تک شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو سے کہا جائے کہ وہ مرکزی حکومت میں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔ کرجت-جامکھیڈ سے رکن اسمبلی روہت پوار نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ حادثہ کا شکار ’لیئرجیٹ 45‘ طیارے کی مالک کمپنی وی ایس آر اور اس کے ساتھ نائیڈو کے تعلقات پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ اس کی جانچ کسی آزاد اور بااختیار اتھارٹی کے ذریعہ کی جانی چاہیے۔
روہت پوار نے پی ایم مودی کو لکھے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ’’آپ (وزیر اعظم) نے اجیت دادا اور ملک کے لیے ان کی خدمات کے تئیں ہمیشہ احترام ظاہر کیا ہے۔ اس تناظر میں میرا مطالبہ ہے کہ رام موہن نائیڈو سے کہا جائے کہ جانچ مکمل ہونے تک وہ اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وی ایس آر کے معاملے میں ڈی جی سی اے کسی بھی طرح متاثر تو نہیں ہوا تھا۔‘‘ روہت پوار کے مطابق وی ایس آر کمپنی سے وابستہ کئی افراد اقتدار میں ہیں، جن میں کچھ ریاستوں میں اور کچھ مرکز میں حکمراں اتحاد کی حمایت کرنے والی پارٹیوں سے منسلک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اگر کوئی وی ایس آر کمپنی کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، تو وہ بھی اس سازش کا حصہ ہے۔
روہت پوار نے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر اٹھائیں۔ انہوں نے حادثے کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کچھ انتہائی اہم حقائق میڈیا کے سامنے رکھے۔ روہت نے کہا کہ حادثہ کے وقت طیارے میں صرف ایک نہیں بلکہ کئی دھماکے ہوئے تھے، جس سے بلیک باکس کے حوالے سے بھی شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طیارے میں میکانیکل اور مینٹیننس سے متعلق سنگین خامیاں تھیں۔ ساتھ ہی جہاں مسافروں کا سامان رکھا جاتا ہے، وہاں اضافی پٹرول کے کین رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے آگ لگی اور حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملہ کی غیر جانبدار اور گہرائی سے جانچ کی جائے تاکہ اجیت پوار کو انصاف مل سکے۔