اجے ماکن کے بیٹے اوجسوی ماکن کی شاندار کامیابی، جوریڈیکل یونیورسٹی کولکاتا میں پہلی پوزیشن کے ساتھ ملا گولڈ میڈل
کانگریس لیڈر اجے ماکن کے بیٹے اوجسوی ماکن نے این یو جے ایس کولکاتا میں بی اے ایل ایل بی (آنرز) میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے یونیورسٹی گولڈ میڈل جیتا، انہوں نے 7 مضامین میں بھی گولڈ میڈلز حاصل کیے

کانگریس کے سینئر لیڈر اجے ماکن نے ایکس پر ایک جذباتی پوسٹ کے ذریعے اپنے بیٹے اوجسوی ماکن کی شاندار تعلیمی کامیابی کو عوام کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ اوجسوی ماکن نے نیشنل یونیورسٹی آف جوریڈیکل سائنسز، کولکاتا میں بی اے ایل ایل بی (آنرز) پروگرام میں پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے یونیورسٹی گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ یہ اعزاز انہیں چیف جسٹس آف انڈیا کے ہاتھوں دیا گیا، جو اس جامعہ کے چانسلر بھی ہیں۔
اجے ماکن کے مطابق اوجسوی کو ڈاکٹر مادھو مینن یونیورسٹی گولڈ میڈل سے نوازا گیا، جو جدید قانونی تعلیم کے بانی سمجھے جانے والے ڈاکٹر مادھو مینن کے نام سے منسوب ہے۔ انہوں نے اس اعزاز کو خاندان کے لیے ایک خواب کی تکمیل قرار دیا اور کہا کہ یہ لمحہ ان کے دلوں کو بے حد شکرگزاری سے بھر دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی محض ایک تمغے تک محدود نہیں بلکہ برسوں کی محنت، مستقل مزاجی اور قانون سے وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔
اس اعزاز کی خاص بات یہ ہے کہ اوجسوی ماکن نے مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سات انفرادی مضامین میں بھی گولڈ میڈلز جیتے۔ ان مضامین میں انسانی حقوق، عوامی بین الاقوامی قانون، قوانین کی تشریح، کارپوریٹ قانون، متبادل تنازعاتی حل، ٹیکسیشن قوانین اور کلینکل مضامین شامل ہیں۔ اس کارکردگی نے انہیں اپنے ساتھی طلبہ میں نمایاں مقام دلایا اور جامعہ کی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم مثال قائم کی۔
اجے ماکن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ سفر طویل اور صبر آزما تھا، لیکن جب محنت کو اعلیٰ ترین سطح پر تسلیم کیا جائے تو ہر جاگتی رات اور ہر قربانی بامعنی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’فخر‘ جیسے الفاظ بھی اس احساس کی مکمل ترجمانی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس موقع پر جامعہ، اساتذہ اور ادارے کے تعلیمی ماحول کا بھی شکریہ ادا کیا۔
سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کے بعد سیاسی، تعلیمی اور قانونی حلقوں کی جانب سے اوجسوی ماکن کو مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے صارفین نے اس کامیابی کو نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا مثال قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارنامہ سخت محنت اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔