دہلی کی ہوا کے معیار پر اجئے ماکن نے پھر اٹھائے سوال، مسلسل 77 دنوں سے ’پی ایم 10‘ گزشتہ سال کے مقابلہ خراب

اجئے ماکن نے رواں سال کے اب تک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2026 میں اب تک 226 دنوں کی پیمائش کی گئی، جن میں سے 153 دن گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب رہے۔

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

دہلی میں فضائی آلودگی کو لے کر کانگریس کے خزانچی اجے ماکن نے ایک بار پھر حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ شہر کی ہوا کے معیار کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد دہلی کی ’پی ایم 10‘ ہوا گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل 77 دن سے زیادہ خراب رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور اب تک اس میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

اجے ماکن نے اپنی پوسٹ میں ’سانس: دن 96‘ عنوان کے تحت دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق روزانہ کے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ شہر میں ہوا کے معیار کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد موجودہ سال میں دہلی کی پی ایم 10 ہوا گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں مسلسل خراب ریکارڈ کی گئی ہے۔


ماکن کے مطابق بوانا میں آج صبح پی ایم 10 کی ریڈنگ 197 ریکارڈ کی گئی، جسے انہوں نے ’ماڈریٹ‘ یعنی ’معتدل‘ زمرے میں بتایا۔ انہوں نے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی جانب سے دی گئی تفصیل کا حوالہ دیتے ہوئے اس مانیٹر کی ریڈنگ کے ساتھ ‘None’ درج ہونے کی بھی نشاندہی کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ بوانا کے اس مانیٹر سے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار 162 افراد رہتے ہیں۔ تاہم، ماکن نے خود اس بات پر زور دیا کہ کسی مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس علاقے میں رہنے والا ہر شخص لازماً اسی ریڈنگ کی ہوا سانس کے ذریعے لے رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنا اور اس مخصوص مانیٹر کی ریڈنگ والی ہوا میں سانس لینا 2 الگ باتیں ہیں، اور ان کے مطابق اس فرق کو ان کے تجزیے میں واضح طور پر رکھا گیا ہے۔

ماکن نے اپنی پوسٹ میں دہلی بھر کے مانیٹرز کی بنیاد پر یہ بھی اعداد و شمار پیش کیے کہ آج ایسے مانیٹرز کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والی آبادی کتنی ہے، جہاں ہوا کا معیار ’خراب‘ یا ’بہت خراب‘ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان کی فراہم کردہ پوسٹ کے متن میں اس تعداد کے مقام پر ’0 لاکھ‘ درج ہے، اس لیے اس مخصوص اعداد و شمار سے کسی حتمی آبادی کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔


کانگریس کے خزانچی نے رواں سال کے اب تک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2026 میں اب تک 226 دنوں کی پیمائش کی گئی، جن میں سے 153 دن گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب رہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار محض ایک دن یا کسی ایک علاقے کی صورت حال نہیں بلکہ طویل مدت کے رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ماکن نے روزانہ ریکارڈ کیے جانے والے فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔

اجے ماکن نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں مکمل رپورٹ اور اس میں استعمال کیے گئے طریقۂ کار کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہلی کی ہوا کے معیار سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور اس کے طریقۂ کار کی معلومات ’ہوا کا حساب‘ (hawakahisab.in) نامی پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔ ماکن کی جانب سے جاری کیے گئے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دہلی میں فضائی آلودگی ایک مستقل عوامی اور سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے دعووں میں خاص طور پر گزشتہ سال کے مقابلے میں موجودہ سال کی پی ایم 10 سطح، مختلف مانیٹرز کی ریڈنگ اور ان کے آس پاس رہنے والی آبادی کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔