رانچی میں طلبہ تحریک کی حمایت کرنے پہنچی آئسا صدر نیہا پر پھینکی گئی سیاہی، تنظیم نے آر ایس ایس پر لگایا الزام
رانچی میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سراپا احتجاج طلبہ سے ملنے پہنچی نیہا پر سیاہی پھینکی گئی۔ آئسا نے واقعے کی مذمت کی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد پر الزام عائد کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا

رانچی: جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کی بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی قومی صدر نیہا بورا پر جمعہ کو ایک شخص نے سیاہی پھینک دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے ملاقات اور اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچی تھیں۔
پولیس نے سیاہی پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ریاست میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی - سی جی ایل امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ کا احتجاج مسلسل چودھویں روز بھی جاری ہے۔ احتجاج کے دوران چھ طلبہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں، جبکہ دو طلبہ تنظیموں نے جھارکھنڈ اسمبلی کے جاری مانسون اجلاس کے دوران اسمبلی تک مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
واقعے کے بعد نیہا بورا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو لوگ خود کو طلبہ کا حامی بتاتے ہیں، وہی احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ سیاہی پھینک کر ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
نیہا بورا نے کہا کہ طلبہ تحریک کو خوفزدہ کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 20 جولائی کو احتجاج کے دوران آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور پیلٹ گن کا بھی استعمال کیا گیا، مگر طلبہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے، اس لیے سیاہی پھینکنے جیسے اقدامات بھی انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے۔
اس سے قبل احتجاجی مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیہا بورا نے کہا کہ جے پی ایس یس اور دیگر بھرتی امتحانات کے انعقاد کے لیے شفاف اور قابلِ اعتماد نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سے ایس ایس سی - سی جی ایل امتحان میں بے ضابطگیوں کے باعث طلبہ شدید پریشان ہیں، اس لیے حکومت کو امتحان منسوخ کرکے دوبارہ کرانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری بھرتی امتحانات کا انعقاد نجی ایجنسیوں کے سپرد کرنے کے بجائے حکومت کو خود اپنی ذمہ داری پر کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی بے ضابطگی، پیپر لیک یا بدعنوانی کی صورت میں براہِ راست جواب دہی ممکن ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور امتحانی نظام میں نجی ایجنسیوں کا کردار ختم کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے طلبہ کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب آئسا نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے نیہا بورا اور دیگر خواتین مظاہرین پر حملے کی سخت مذمت کی۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ گزشتہ روز سے نیہا بورا کی احتجاج میں شرکت کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی تھی اور اسی ماحول کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ آئسا نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین طلبہ کے مطالبات پر فوری توجہ دیتے ہوئے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی سے متعلق تنازعہ کا جلد از جلد حل نکالیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
