بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اویسی: اَسلم باشاہ

اسلم باشاہ نے مزید کہا کہ اویسی بی جے پی کے لئے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ بہار کے انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کے حق میں اپنا امیدوار کھڑا کیا۔ جس کے نتیجے میں دوسرے امیدوار ہار گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

چنئی: تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے ایک پریس میٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین) کے صدر اسدالدین اویسی نے جھارکھنڈ میں ہوئے ایک واقع کو لے کر گزشتہ 7 جولائی کو تمل ناڈو کے شہر وانمباڑی میں عوامی اجلاس کے ذریعہ عوام کو مشتعل کرنے اور ریاست میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

اسلم باشاہ نے مزید کہا کہ اسد الدین اویسی بی جے پی کے لئے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ بہار کے انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کے حق میں اپنا امیدوار کھڑ اکیا۔ جس کے نتیجے میں دوسرے امیدوار ہار گئے اور بی جے پی کا امیدوار جیت گیا۔

اسلم باشاہ نے مزید کہا، اسد الدین اویسی اسلام کے نام پر سیاست کر رہے ہیں ان میں اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی مذہب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا، ایم آئی ایم کے صدر نے تمل ناڈو کے وانمباڑی شہر میں منعقد ایک عوامی اجلاس میں جس طرح ہند و مسلم کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی تقریر کی ہے اگر ایم آئی ایم کے صدر کو جھارکھنڈ کے معاملے پر تمل ناڈو میں مشتعل بیان بازی نہیں کرنی چاہئیں بلکہ وہ جھارکھنڈ میں جاکر تحریک چلائیں۔

تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے مزید کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر کی تنقید کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم ’جے شری رام‘ کہلوانے والوں کی حمایت کرتے ہیں۔ تمل ناڈو میں ہندو مسلم کمیونٹی دونوں امن و اتحاد سے رہتے آرہے ہیں لہذا ایم آئی ایم کے صدر یہاں ایسی تقریر نہ کریں جس سے یہاں کے ہندو مسلم طبقات میں تفریق پیدا ہو۔

اسلم باشاہ نے کہا، ویلور پارلیمانی حلقہ کے لیے اگست میں انتخابات ہونے والا ہے ایسے میں اسد الدین اویسی کا یہاں آ کر ہندو مسلم کا مسئلہ پیدا کرنا ہمارے دل میں یہ شک پیدا کرتا ہے کہ کہیں وہ بی جے پی کو ویلور میں جتانے کے لئے اس طرح کی تقریر تو نہیں کر رہے ہیں؟ کانگریس نریندر مودی کی اس لئے سخت مخالفت کرتی ہے کیونکہ نریندر مودی ہندوستانی ثقافت کو پرے رکھ کر ہندوتوا پالیسی کو اختیار کر رہے ہیں اور ہندوتوا کو عوام پر تھوپنا چاہتے ہیں۔

سال 2004 اور 2009 میں کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد میں رہنے والے اسد الدین اویسی اب بی جے پی کے خلاف تیسرا محاذ تشکیل دینے کی جو بات کر رہے ہیں وہ مضحکہ خیز ہے۔ اسلم باشاہ نے اختتام میں کہا کہ اسد الدین اویسی بی جے پی کی طرح ہی مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنے والے سیاست دان ہیں اس طرح کی سیاست کو کانگریس پارٹی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے گی۔ کانگریس ایک سیکولر پارٹی ہے اور ہمیشہ ایک سیکولر پارٹی رہے گی۔

Published: 10 Jul 2019, 10:10 PM