ڈاکٹروں کی نظر سے بچ جانے والے خطرات کو پکڑے گی اے آئی، ہائی بلڈ پریشر مریضوں کے لیے بڑی راحت

ہائی بلڈ پریشر والے تقریباً 10 فیصد لوگ ماسکڈ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یعنی چیک اپ کے دوران بلڈ پریشر پوری طرح نارمل دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت یہ ہائی رہتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہائی بلڈ پریشر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 موجودہ ماحول میں دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ہائی بلڈ پریشرکا شکار ہیں جس کی وجہ سے دل کی بیماری، فالج اور گردے سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر والے تقریباً 10 فیصد لوگ ماسکڈ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یعنی چیک اپ کے دوران بلڈ پریشر پوری طرح نارمل دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت یہ ہائی رہتا ہے۔ عام طور پر ڈاکٹر بھی اس کا پتہ نہیں لگا پاتے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو بروقت علاج نہیں مل پاتا۔ اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) نظام سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اس بیماری کے معاملے میں اے آئی ان خطرات کا پتا لگا لے گی جو ڈاکٹروں کی نظروں سے بچ جاتے ہیں۔

عام طور پر اس حالت کا پتا لگانے کے لیے ایک ویئر بیل ڈیوائس کا سہارا لیا جاتا ہے جو دن بھر بلڈ پریشر کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک درست طریقہ ہے لیکن یہ وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا جاتا ہے. اس ڈیوائس کو سارا دن پہننے رہنا مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تر مریضوں میں اس بیماری کا پتہ نہیں چل پاتا۔


آرکنساس یونیورسٹی میں ایک مطالعے نے اس مسئلے کے حل کی سمت میں امید پیدا کی ہے۔ یونیورسٹی کے محققین نے ایک اے آئی  نظام تیار کیا ہے جو معیاری صحت کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے ہائی بلڈ پریشر کا پتا لگا سکتا ہے۔ اس سسٹم کے ساتھ جنوبی افریقہ میں ہوئے ایک وسیع مطالعے ؎افریقن فریڈکٹ‘سے ملی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اس نظام کو تربیت دی گئی۔ اس معلومات کی مدد سے یہ اے آئی پروگرام ماسکڈ ہائی بلڈ پریشر سے منسلک نمونوں کو پہچان سکتا ہے۔ جب اس کی ٹیسٹنگ کی گئی تو یہ ماسکڈ ہائی بلڈ پریشر کے 83 فیصد کیسوں کی درست نشاندہی کی۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے کسی طرح کے خاص سامان کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

اس نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک ساتھ زیادہ معلومات پر کارروائی کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ڈاکٹر لمیٹیڈ انڈیکیٹر پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام ان چھپے ہوئے خطرات کو بھی پہچان سکتا ہے جو عام طور پر ڈاکٹر نہیں دیکھ پاتے۔ مستقبل میں اس ٹول کو ہیلتھ ریکارڈ سسٹم میں استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے ڈاکٹروں مریضوں کے معمول کے چیک اپ کے دوران بھی اس بیماری کا پتا لگاپائیں گے۔ اس سے مریضوں کی اسکریننگ تیزی ہوگی اور انہیں جلد علاج کروانے میں بھی مدد ملے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔