زرعی قوانین نوٹوں کی کھیتی کرنے والوں نے بنائے، متھرا کسان مہاپنچایت سے پرینکا گاندھی کا خطاب

پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر گزشتہ حکومت نے کچھ نہیں بنایا تو پھر آپ بیچ کیا رہے ہیں؟ آپ کی حکومت نے صرف نوٹ بندی کی ہے اور جی ایس ٹی متعارف کرایا ہے، جس سے عوام پریشان ہیں۔

تصویر بشکریہ ٹوئٹر / INCUttarPradesh
تصویر بشکریہ ٹوئٹر / INCUttarPradesh
user

قومی آوازبیورو

متھرا: زرعی قوانین کے مسئلہ پر مرکزی حکومت زبردست عوامی احتجاج کا سامنا کر رہی ہے اور حزب اختلاف نے بھی پوری قوت کے ساتھ کسانوں کی حمایت کرنے اور حکومت کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے منگل کے روز متھرا کے پالی کھیڑا میں منعقد کسانوں کی ایک مہاپنچایت سے خطاب کیا۔ پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم صرف متکبر ہی نہیں بلکہ بزدل بھی ہیں۔

زرعی قوانین نوٹوں کی کھیتی کرنے والوں نے بنائے، متھرا کسان مہاپنچایت سے پرینکا گاندھی کا خطاب

پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر گزشتہ حکومت نے کچھ نہیں بنایا تو پھر آپ بیچ کیا رہے ہیں؟ آپ کی حکومت نے صرف نوٹ بندی کی ہے اور جی ایس ٹی متعارف کرایا ہے، جس سے عوام پریشان ہیں۔ پرینکا گاندھی نے اعلان کیا کہ جب تک تینوں زرعی قوانین واپس نہیں ہوں گے اس وقت تک کسانوں کی لڑائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی ان قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی ایل آئی سی کے علاوہ بہت سی کمپنیاں فروخت کر رہی ہے، گووردھن پربت کو بچا کر رکھیں، کل کہیں حکومت اسے بھی فروخت نہ کر دے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم مودی کو کسانوں سے کیا دشمنی ہے۔ پی ایم مودی پارلیمنٹ میں بھی کسانوں کی توہین کرتے ہیں۔ ان کے وزراء کسانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں، جب راہل گاندھی نے تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کے لیے پارلیمنٹ میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی، تو حکومت نے اس میں حصہ نہیں لیا۔

پرینکا گاندھی نے مہاپنچایت میں کہا کہ متھرا کی سرزمین تکبر کا خاتمہ کرتی ہے، بی جے پی حکومت بھی تکبر سے کام لے رہی ہے۔ 90 دن سے کسان دہلی کی سرحد پر اپنی بقا کے لئے جنگ لڑ رہا ہے، اس عرصے کے دوران 200 سے زیادہ کسان اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی دنیا کے کونے کونے تک پہنچے، لیکن دہلی میں کسانوں سے ملنے کے لیے نہیں پہچ سکے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ گئوشالہ کے نام پر 200 کروڑ روپئے مختص کیے گئے تھے لیکن ان پیسوں کا کیا ہوا کسی کو پتہ نہیں ہے۔ حکومت نے اپنے تین زرعی قوانین منظور کیے ہیں، اس سے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ امیر کاروباریوں کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی چھوٹ ملے گی۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کسانوں سے کہتے ہیں کہ اپوزیشن کسانوں کو گمراہ کر رہی ہے لیکن کیا حکومت نے کسی ایک بھی کسان سے بات کی؟ ان قوانین کو کسانوں کے ذریعہ نہیں بلکہ نوٹوں کی کاشت کرنے والوں کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next