زرعی قوانین: مرکزی حکومت کسانوں سے بات چیت کر کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرے، امریندر سنگھ

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے جمعہ کے روز مرکزی حکومت سے زرعی قوانین کے ایک سال مکمل ہونے پر تینوں 'سیاہ' زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا

امریندر سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
امریندر سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

چنڈی گڑھ: پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے جمعہ کے روز مرکزی حکومت سے زرعی قوانین کے ایک سال مکمل ہونے پر تینوں 'سیاہ' زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کسانوں کے ساتھ بات چیت کر کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔

یہاں پنجاب زرعی یونیورسٹی ، لدھیانہ کے زیر اہتمام تیسرے ریاستی سطح کے کسان میلے کا افتتاح کرتے ہوئے کیپٹن امریندر نے کہا کہ کسانوں کے احتجاج میں بہت سے کسانوں کی موت ہو چکی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ مرکز کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور کسانوں کے مفاد میں حکومت قوانین واپس لے۔ وہ اپنے قمیض پر 'نو فارمرز ، نو فوڈ' ('کسان نہیں ، کھانا نہیں') کا بیج لگائے ہوئے تھے۔ کسان میلہ کا تھیم 'کریں پرالی کی سنبھال ، دھرتی ماتا ہو خوشحال' ہے اور اس کا مقصد کسانوں کو پرالی جلانے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئین میں 127 بار ترمیم کی گئی ہے ، تو پھر ایک بار کیوں نہیں کیا جا سکتا کہ زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے اور کسانوں تحریک کا حل تلاش کیا جا سکے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز نے گزشتہ نومبر میں ان سے کہا تھا کہ وہ پنجاب کے کسانوں کو دہلی جانے سے روکیں لیکن انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں کو نہیں روکیں گے کیونکہ لوگوں کو احتجاج کرنے کا جمہوری حق ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔