معاہدے قومی مفاد میں ہونے چاہئیں، غیر ملکی حکومتوں کے دباؤ میں نہیں: سپریم کورٹ
عدالت نے کہا کہ ’’ہندوستان کو بین الاقوامی ٹیکس معاہدے کرتے وقت اپنی ٹیکس خود مختاری کا تحفظ کرنا چاہیے، ساتھ ہی شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے اور غلط استعمال کو بھی روکنا چاہیے۔‘‘

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ معاہدے غیر ملکی حکومتوں یا کارپوریشنوں کے دباؤ میں نہیں بلکہ قومی مفاد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو بین الاقوامی ٹیکس معاہدے کرتے وقت اپنی ٹیکس خود مختاری کا تحفظ کرنا چاہیے، ساتھ ہی شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے اور غلط استعمال کو بھی روکنا چاہیے۔ جسٹس جے بی پاردی والا کے یہ تبصرے اس فیصلے کے دوران آئے، جس میں سپریم کورٹ نے مقامی ریونیو حکام کے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے مطابق امریکہ میں قائم سرمایہ کار کمپنی ’ٹائیگر گلوبل‘ کی جانب سے 2018 میں فلپ کارٹ سے باہر نکلنے پر حاصل ہونے والا سرمایہ ہندوستان میں قابل ٹیکس ہے۔
جسٹس پاردیوالا نے ایک الگ لیکن متفقہ فیصلہ تحریر کیا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ ہندوستان کو بین الاقوامی ٹیکس معاہدوں کے تئیں کس قسم کا جامع نقطہ نظر اپنانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے معاہدے، بین الاقوامی سمجھوتے، پروٹوکول اور حفاظتی اقدامات شراکت دار اور شفاف ہونے چاہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان میں وقتا فوقتاً جائزے کا نظام ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی معاہدے سے باہر نکلنے کے مضبوط التزامات کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔ تاکہ غیر منصفانہ نتائج سے بچا جا سکے، قوم کے اسٹریٹجک اور حفاظتی مفادات کا تحفظ ہو، ٹیکس کی بنیاد میں کمی اور جمہوری کنٹرول کے نقصان یا کمزور پڑنے کو روکا جا سکے۔ ساتھ ہی ریاست کے ٹیکس عائد کرنے کے حق کے تحفظ کے لیے واضح التزامات شامل کیے جا سکیں۔
جسٹس پاردی والا نے کہا کہ معاہدے قومی مفاد کی بنیاد پر کی جانی چاہیے نہ کہ غیر ملکی حکومتوں یا کارپوریشنوں کے دباؤں پر۔ سپریم کورٹ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی حفاظتی اقدامات کا ذکر کیا کہ ٹیکس معاہدے ملک کی اقتصادی خودمختاری، ریونیو کی بنیاد اور عوامی مفادات کا تحفظ کریں۔ اس دوران جسٹس پاردیوالا نے مشورہ دیا کہ بین الاقوامی ٹیکس معاہدوں پر بات چیت یا ان کی تجدید کے دوران ہندوستان کو جامع حفاظتی اقدامات اپنانے چاہئیں، جن میں فرضی کمپنیوں کے ذریعے معاہدے کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فوائد کی حد بندی جیسی دفعات کو شامل کرنا اور ٹیکس سے بچنے کے عمومی قوانین جیسے ملکی قوانین کے اطلاق کی اجازت دینا شامل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ معاہدوں میں صرف بیوروکریٹک یا سفارتی مقاصد کو ہی نہیں، بلکہ وسیع تر معاشی اور عوامی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ 2018 میں ٹائیگر گلوبل نے فلپ کارٹ سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تھا، جب ’وال مارٹ انک‘ نے ہندوستانی ای-کامرس کمپنی میں کنٹرولنگ شیئر حاصل کر لیا تھا۔ اس کے بعد فروری 2019 میں ٹائیگر گلوبل نے اس معاملے پر فیصلے کے لیے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے ایڈوانس رولنگ اتھارٹی سے رجوع کیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔