زرعی قوانین واپسی کے بعد دہلی کے سنگھو بارڈر پر کسانوں کا اہم اجلاس، کئی مسائل پر تبادلہ خیال متوقع

اجلاس شروع ہونے سے قبل کسان لیڈران نے کہا کہ وہ ایم ایس پی، جان گنوانے والے کسانوں کو معاوضہ، کسانوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی اور ان کی آئندہ حکمت عملی کے تعلق سے گفت شنید کریں گے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مودی حکومت کے متنازعہ زرعی قوانین کی واپسی کے بعد آج دہلی کے سنگھو بارڈر پر کسانوں کا اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل کسان لیڈران نے کہا کہ وہ ایم ایس پی، جان گنوانے والے کسانوں کو معاوضہ، کسانوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی اور ان کی آئندہ حکمت عملی کے تعلق سے گفت شنید کریں گے۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف تحریک تقریباً ایک سال سے جاری تھی۔ اس دوران کسانوں نے دھرنا دیا، بند کا اہتمام کیا، شہر شہر اجلاس منعقد کئے اور حکومت کے ساتھ کئی ادوار کی بات چیت بھی کی لیکن حکومت نے قوانین واپسی پر توجہ نہیں دی۔ کئی مرتبہ کسانوں اور پولیس میں تصادم بھی ہوا اور متعدد کسانون کو حراست میں بھی لیا گیا۔ کسان تحریک کے دوران تقریباً 700 کسانوں نے اپنی جان گنوا دی، سنیوکت کسان مورچہ چاہتا ہے ایسے تمام کسانوں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔


وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے قوانین واپسی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کسانوں کو زرعی قوانین کے فوائد سمجھا نہیں پا رہے ہیں، لہذا انہیں واپس لیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔