چودھری زبیر نے چوہان بانگر وارڈ میں فتح کے بعد کہا ’یہ وارڈ کے زندہ دل عوام کی جیت ہے‘

کانگریس امیدوار چودھری زبیر احمد کی فتح کے بعد چوہان بانگر وار ڈ میں جشن کا ماحول ہے۔ لوگ اسے ’بھائی چارے‘ کی جیت قرار دے رہے ہیں۔

چودھری زبیر احمد
چودھری زبیر احمد
user

محمد تسلیم

نئی دہلی: پانچ وارڈوں میں ہونے والے دہلی میونسپل کارپوریشن کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا جس میں عام آدمی پارٹی کو 4 اور کانگریس پارٹی کو ایک سیٹ حاصل ہوئی۔جس وارڈ پر ملک بھر کے عوام کی نگاہیں مرکوزتھیں وہ چوہان بانگر وارڈ تھا جس کو حاصل کرنے کے لئے عام آدمی پارٹی نے کوئی کسرنہیں چھوڑی تھی، لیکن اسے ناکامی ہی ہاتھ لگی۔

تقریباً ایک مہینے تک وزراء سے لے کر اراکین اسمبلی اور چیئر مین تک وارڈ میں خیمہ جمائے رہے اور الیکشن کے دو روز قبل دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی زور دار روڈ شو کیا۔ اس کے باوجود یہاں کے عوام پر کوئی اثر نہیں ہوا، کیوں کہ شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فساد اور کورونا کے دوران عام آدمی پارٹی کے رویہ سے مسلمان سخت نالاں تھے۔ اس کا جواب انھوں نے میونسپل الیکشن کے ضمنی انتخاب میں بھرپور طریقے سے دیا۔

چودھری زبیر نے چوہان بانگر وارڈ میں فتح کے بعد کہا ’یہ وارڈ کے زندہ دل عوام کی جیت ہے‘

چوہان بانگر وارڈ سے سابق رکن اسمبلی چودھری متین احمد کے بیٹے چودھری زبیر احمد او ر عام آدمی پارٹی سے سابق رکن اسمبلی حاجی اشراق خان میدان میں تھے جنہیں 21968 ووٹوں میں سے صرف 5561 ووٹ ہی حاصل ہوسکے، جبکہ چودھری زبیر احمد کو 16203ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح حاجی اشراق خان کو10642 ووٹوں سے شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ عوامی سطح پر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر عام آدمی پارٹی سے اور کوئی امیدوار ہوتا تو شاید وہ ایک ہزار ووٹ بھی بمشکل پاتا۔

چودھری زبیر نے چوہان بانگر وارڈ میں فتح کے بعد کہا ’یہ وارڈ کے زندہ دل عوام کی جیت ہے‘

لوگوں کا کہنا ہے کہ حاجی اشرا ق خان کو جو ووٹ ملے ہیں یہ عام آدمی پارٹی کے نہیں بلکہ ان کے اپنے چہرے پر ملے ہیں۔اس ریزلٹ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ 2022 میں ہونے والے کارپوریشن کے انتخابات میں مسلم اکثریتی وارڈوں سے عآپ کو نکلنا بہت ہی مشکل ہوگا کیوں کہ ابھی بھی لوگوں کی نگاہوں میں فساد،کورونا،مرکزاور حاجی طاہر حسین کاچہرہ گردش کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔اگر اس وارڈ کے حوالے سے 2017 کے الیکشن پر نظر ڈالیں تو عام آدمی پارٹی کے امیدوار عبدالرحمن، جو کہ اس وقت ایم ایل اے ہیں، کو 8830 ووٹ ملے تھے اور کانگریس کے امیدوار جاوید برقی کو6488 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور مجلس اتحاد المسلمین کو 2655 ووٹ ملے تھے، اورشاید یہی (مجلس اتحادالمسلمین) ووٹ کانگریس کی ہار کا سبب بھی بنے تھے۔

چودھری زبیر نے چوہان بانگر وارڈ میں فتح کے بعد کہا ’یہ وارڈ کے زندہ دل عوام کی جیت ہے‘

بہر حال، اس بار جیسے ہی چوہان بانگر وارڈ سے چودھری زبیر احمد کی جیت کا اعلان ہوا، پورے وارڈ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور شاستری پارک اسکول سے لے کر چوہان بانگر تک چودھری متین احمد،چودھری زبیر احمد اور کانگریس پارٹی زندہ باد کے نعرے لگنے شروع ہوگئے۔ بڑی تعداد میں لوگ اپنے ہر دل عزیز نومنتخب کونسلر کا پھول کا ہار پہنا کر استقبال کرتے ہوئے نظر آئے۔

چودھری زبیر نے چوہان بانگر وارڈ میں فتح کے بعد کہا ’یہ وارڈ کے زندہ دل عوام کی جیت ہے‘

اس کامیابی پر چودھری زبیر احمد نے کہا کہ ’’یہ کامیابی صرف ہماری کامیابی نہیں بلکہ پورے وارڈ کے زندہ دل عوام کی کامیابی ہے۔ انہوں نے جن محبتوں سے ہمیں نوازا اس کا احسان ہم کبھی بھی نہیں بھول سکتے۔‘‘ اس موقع پر افسر خان نے کہا کہ ’’یہ بھائی چارے اور امن و اتحاد کی جیت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’زبیر احمد ایک ایسا چہرہ ہے جس کو ہر کس و ناکس پسند کرتا ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان ہونے کے ناطے وہ وارڈ کے عوام کی ہر ممکن خدمت کریں گے۔‘‘ جاوید برقی نے چودھری زبیر کی جیت پر اپنے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیجریوال کا اصل چہرہ اب بے نقاب ہوچکا ہے۔ عوام اب کسی جھانسے میں نہیں آنے والے۔ چوہان بانگر کے عوام نے چودھری زبیر احمد کو تاریخی فتح دلا کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر کوئی ہمارے وجود پر انگلی اٹھائے گا تو ہم اس کو مسترد کر دیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔