شیوراج کابینہ میں توسیع کے بعدقلمدانوں کی تقسیم پر تنازعہ، کانگریس نے کیا طنز

شیوراج کابینہ کی دوسری توسیع میں 28 وزرا نے حلف اٹھایا تھا، جن میں اب قلمدانوں کی تقسیم کی جانی ہے، لہذا جن وزرا کے پاس دو قلمدان ہیں ان کا ایک قلمدان چھینا جا سکتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بھوپال: مدھیہ پردیش میں لمبی جدوجہد کے بعد شیوراج سنگھ چوہان حکومت کی کابینہ کی دوسری توسیع تو ہو گئی لیکن اب قلمدانوں کی تقسیم کو لے کر تنازعہ نظر آ رہا ہے اور کسے کون سا قلمدان دیا جائے، اس حوالہ سے بھوپال سے لے کر دہلی تک غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی باگڈور بی جے پی کے ہاتھ میں آ گئی اور شیوراج سنگھ چوہان نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف اٹھایا۔ تین مہینے سے زیادہ کا وقت گزارنے کے بعد کابینہ کی دوسری توسیع ممکن ہو پائی ہے۔ پہلی توسیع وزیر اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے ایک مہینے بعد ہو پائی تھی۔ پہلے جن پانچ وزرا کو حلف دلایا گیا تھا ان کے پاس اس وقت دو دو قلمدان ہیں۔

کابینہ کی دوسری توسیع میں 28 وزرا نے حلف اٹھایا ہے، جن میں سے 20 کابینہ اور 8 وزیر مملکت ہیں۔ ان وزرا میں قلمدانوں کی تقسیم کی جانی ہے، لہذا جن وزرا کے پاس دو قلمدان ہیں ان کا ایک ایک قلمدان چھینا جا سکتا ہے۔ ایک طرف جہاں قلمدان چھینے جانے کے خوف سے پریشان وزرا اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف نئے وزرا پسندیدہ قلمدان کے خوہاں ہیں۔

بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی میں آئے رکن راجیہ سبھا جیوتیرادتیہ سندھیا اپنے حامی وزرا کو کچھ ایسے اہم قلمدان دلانا چاہتے ہیں، جن کا براہ راست واسطہ عام آدمی سے ہے۔ سندھیا کے 11 حامی وزرا بنائے گئے ہیں اور سندھیا کی طرف سے دیہی ترقی، پنچایت، بہبود خواتین و اطفال، سنچائی، داخلی امور، نقل و حمل، رابطہ عامہ، غذائی ترسیل جیسے اہم قلمدان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرا کے درمیان قلمدانوں کی تقسیم ہونے سے قبل وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان دہلی بھی جا سکتے ہیں۔ دہلی میں پارٹی کی مرکزی قیادت کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقات ممکن ہے۔ اس کے بعد ہی قلمدانوں کی تقسیم ممکن ہو پائے گی۔

کانگریس کے ترجمان اجے سنگھ یادو نے وزرا کے قلمدانوں کی تقسیم دو دن بعد بھی عمل میں نہ لائے جانے پر طنز کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مدھیہ پریش میں ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی کمزور حکومت برسر اقتدار ہے۔ 14 وزرا کا ریموٹ جیوتیرادتیہ سندھیا کے ہاتھ، تو دیگر کا الگ الگ دھڑوں کے رہنماؤں کے پاس ہے۔ الگ الگ رہنما اپنے حامیوں کو فائدہ مند قلمدان دلانے کے لئے دباؤ بنا رہے ہیں، اس لئے قلمدانوں کی تقسیم نہیں ہو پا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کے لئے یہ بوچھ ہے جو جلد ہی اتر جائے گا۔‘‘

وہیں سیاسی تجزیہ کار شیو انوراگ پٹیریا کا کہنا ہے کہ کابینہ میں قلمدانوں کی تقسیم دوررس حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سندھیا اپنے حامیوں کے لئے اہم قلمدان چاہتے ہیں تاکہ ان سے وابستہ کارکنان کی سیاستی اور معاشی حیثیت میں اضافہ ہو سکے۔

    next