آر جے ڈی کی شکست کے بعد لالو نے جیل میں کھانا چھوڑا

بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو چارا گھوٹالہ معاملہ میں جھارکنڈ کی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں اور ان کی طبعیت اتنی خراب ہے کہ دن میں تین مرتبہ انسولین کی خوراک دینی پڑتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

عام انتخابات کے نتائج سے ویسے تو بی جے پی مخالف تمام سیاسی پارٹیاں حیران اور پریشان ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی میں ایک زبردست مایوسی کا ماحول ہے اور ان کو مستقبل کی حکمت عملی بھی سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ ان سیاسی پارٹیوں کے بیچ میں آ رجےڈی ایک ایسی پارٹی ہے جس نے سال 2014 کی مودی لہر میں بھی چار سیٹیں جیت لی تھیں لیکن اپنی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے جب لالو کی اس پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی ہے۔ اس شکست کا سب سے زیادہ اثر پارٹی کے بانی لالو پرساد یادو پر پڑ رہا ہے جو جھارکھنڈ کی جیل میں چارا گھوٹالہ معاملہ میں 14 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نتائج کے بعد سے لالو بہت خاموش ہیں اور ان کے روز کے روٹین میں تبدیلی واضح نظر ا ٓ رہی ہے۔ راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں لالو کے ڈاکٹر امیش پرساد کا کہنا ہے کہ ’’ گزشتہ تین چار روز سے لالو یادو کا روٹین بدل گیا ہے۔ وہ ناشتہ اور رات کا کھانا تو لے رہے ہیں لیکن انہوں نے دوپہر کا کھانا بند کر دیا ہے‘‘۔ لالو پرساد یادو کو 14 سال کی سزا ہوئی ہے اور وہ بیماری کی وجہ سے اسپتال میں زیر علاج ہیں اوران کی طبعیت اتنی خراب ہے کہ ان کو دن میں تین مرتبہ انسولین کی خوراک لینی پڑتی ہے۔ مگر کیونکہ پچھلے تین چار دن سے وہ کھانا وقت پر نہیں لے رہے ہیں اس لئے ڈاکٹر ان کو وقت پر انسولین نہیں دے پا رہے ہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد لالو کے ساتھ ایسا ہونا ایک فطری بات ہے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لالو کی پارٹی کا کوئی بھی لیڈر پارلیمنٹ میں نہیں ہوگا۔ گزشتہ پارلیمنٹ میں بی ایس پی کا بھی کوئی رکن پارلیمنٹ میں نہیں تھا۔ لالو کی پارٹی آ ر جے ڈی نے جھارکنڈ اور بہار میں ایک عظیم اتحاد قائم کیا تھا لیکن اس اتحاد کو بہار کی 40سیٹوں میں سے صرف ایک سیٹ ملی وہ بھی کانگریس کو۔ باقی تمام 39 سیٹیں این ڈی اے نے جیتی ہیں۔