پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پیش نظر کل جماعتی اجلاس منعقد، ایس آئی آر پر حکومت–اپوزیشن میں سخت ٹکراؤ کے آثار

سرمائی اجلاس پیر سے شروع ہوگا۔ کل جماعتی اجلاس میں حکومت نے تعاون کی اپیل کی جبکہ اپوزیشن نے ایس آئی آر، منی پور، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر جارحانہ حکمتِ عملی کا اعلان کیا

<div class="paragraphs"><p>پارلیمنٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس پیر (یکم دسمبر) سے شروع ہوگا جو کہ 19 دسمبر تک جاری رہے گا۔ اجلاس سے ایک روز قبل آج متعدد اہم ملاقاتیں اور مشاورتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اسی سلسلے میں مرکزی حکومت نے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا، جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے لیڈران نے تقریباً دو گھنٹے تک مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

کل جماعتی اجلاس کے بعد مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جماعت نے یہ نہیں کہا کہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی یا کارروائی کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، بعض اپوزیشن لیڈران نے اس امکان کا اظہار کیا کہ وہ ایس آئی آر کے معاملے پر ایوان میں شدید احتجاج کر سکتے ہیں۔

رجیجو نے کہا کہ حکومت ہر مسئلے پر بات سننے اور مناسب طریقہ کار کے ساتھ بحث کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ سب کی ملکیت ہے اور یہاں مباحثوں کے لیے قواعد، ضوابط اور روایات موجود ہیں، جن کا احترام ضروری ہے۔ کل جماعتی اجلاس کے بعد شام 4 بجے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کے علیحدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے جن میں اجلاس کا تفصیلی کیلنڈر، مباحثوں کے لیے وقت اور مختلف بلوں کی پیشی سے متعلق حکمت عملی طے کی جائے گی۔

ادھر، اپوزیشن نے بھی اجلاس کے لیے اپنی صف بندی مضبوط کر لی ہے۔ کل صبح 10 بجے انڈیا بلاک کے فلور لیڈران کی ایک اہم میٹنگ راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کے چیمبر میں ہوگی، جہاں سرمائی اجلاس کے دوران اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔


اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں سب سے اہم موضوع ایس آئی آر ہوگا، جس پر ایوان میں سخت بحث اور ممکنہ ہنگامہ آرائی کے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ منی پور کی صورتحال، مہنگائی، بے روزگاری، زرعی مسائل اور دیگر عوامی امور بھی اپوزیشن کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

قبل ازیں، کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کل جماعتی اجلاس کو صرف رسمی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 15 دن پر مشتمل یہ اجلاس پارلیمانی تاریخ کے مختصر ترین اجلاسوں میں سے ایک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اجلاس میں 13 بل فہرست میں شامل کیے ہیں، جن میں سے متعدد بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے بغیر پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امکان ہے کہ اجلاس کے دوران کوئی نیا بل اچانک پیش کر دیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔