بہار-یوپی سمیت 13 ریاستوں کے بعد اب پورے ملک میں ہوگا ’ایس آئی آر‘، الیکشن کمیشن نے جاری کیا نوٹیفکیشن

الیکشن کمیشن نے اپنے نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ایس آئی آر سے وابستہ تمام ابتدائی تیاریاں جلد از جلد مکمل کر لیں۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹر لسٹ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بہار میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور یوپی سمیت ملک کی 12 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام خطوں میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ اب ان 13 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام خطوں کے علاوہ ملک کی بقیہ ریاستوں میں بھی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے بتایا کہ رواں سال اپریل ماہ سے پورے ملک میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہو جائے گا۔ بہار میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور 12 ریاستوں میں فی الحال یہ عمل جاری ہے، لہٰذا باقی بچ جانے والی ریاستوں میں بھی ایس آئی آر کا عمل شروع کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق صاف ہو جاتا ہے کہ دہلی، ہریانہ اور ہماچل پردیش سمیت 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں اپریل سے ایس آئی آر شروع ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز کو تیاریاں کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کمیشن نے اپنے نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ایس آئی آر سے وابستہ تمام ابتدائی تیاریاں جلد از جلد مکمل کر لیں۔ تاکہ اپریل کے مہینے میں یہ مہم بغیر کسی رکاوٹ کے شروع کی جا سکے۔


قابل ذکر ہے کہ دہلی، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، مہاراشٹرا، کرناٹک، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، چنڈی گڑھ، دادرا اور نگر حویلی و دمن اور دیو، جموں اور کشمیر، لداخ، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، اوڈیشہ، پنجاب، سکم، تریپورہ، تلنگانہ اور اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ایس آئی آر عمل کے تحت بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) گھر گھر جا کر ووٹر لسٹ میں درج فرد کے بارے میں جانچ کرتے ہیں، جس میں یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ رجسٹرڈ شخص اب بھی وہاں رہتا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ جن افراد کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نام، عمر، خراب کوالٹی کی تصویر اور پتے کی غلطیوں کو اس مہم کے ذریعے درست کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ جب بی ایل او آپ کے گھر آئیں تو خاندان کے افراد کے آدھار کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ اور رہائشی سرٹیفکیٹ کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے خاندان میں کسی ممبر کی عمر 18 سال ہو گئی ہے، تو اس کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر خاندان کا کوئی رکن کسی دوسری جگہ منتقل ہو گیا ہے، تو اس کا نام وہاں سے ہٹا کر نئی جگہ شامل کرایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ کے ووٹر آئی ڈی کارڈ میں تصویر پرانی یا دھندلی ہو چکی ہے، تو آپ صاف تصویر دے کر اسے تبدیل کروا سکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔