آدتیہ ٹھاکرے کے کاغذات نامزدگی داخل، انتخابی سیاست میں شامل خاندان کے پہلے فرد!

آدتیہ نے پرچہ نامزدگی سے قبل اپنے دادا آنجہانی بال ٹھاکرے کی تصویر کے سامنے پیشانی جھکا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ماتوشری سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ الیکشن دفترکے لیے روانہ ہوئے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: شیوسینا کے نوجوان لیڈر اور ٹھاکرے خاندان کے مستقبل کے وزیراعلیٰ آدتیہ ٹھاکرے کل ملا کر 16کروڑ کی املاک اور نقد کے مالک ہیں جبکہ ان کے حلف نامہ کے مطابق ان کے خلاف پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں ہے اور نہ ہی عدالت میں کوئی مقدمہ زیرسماعت ہے۔ انہوں نے اسمبلی انتخابات کے جنوبی وسطی ممبئی کے ورلی حلقہ سے پرچہ نامزدگی داخل کرتے ہوئے مذکورہ باتوں کا اعلان کیا ہے۔

شیوسینا کے 29 سالہ آدتیہ نے ورلی حلقہ سے پرچہ نامزدگی داخل کیے ہیں اور یہاں 21 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے، آدتیہ ٹھاکرے کے الیکشن میں اترنے کے بعد سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) ان کے سامنے امیدوار نہیں کھڑا کرے گی۔ اس طرح وہ ٹھاکرے فیملی میں پہلے ایسے فرد بن چکے ہیں جوانتخاب لڑکرعوام کی نمائندگی کرے گا اور ریموٹ کنٹرول سے حکومت نہیں چلائے گا۔ ان کے دادا بال ٹھاکرے نے 1995میں شیوسینا اور بی جے پی محاذ کے اقتدار میں آنے پر کہا تھا کہ حکومت کا ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھوں میں ہے۔


آج یہاں داخل کیے گئے پرچہ نامزدگی کے مطابق ان بینک کھاتے میں 10.36کروڑ روپے جمع ہیں، جبکہ 4.67 کروڑ روپے کی جائیداد ہے اور 97 لاکھ روپے کے بانڈس، شیئرس اور میچیول فنڈ ہیں اور ایک کروڑ روپے مالیت کے زیورات ہیں، دیگر سرمایہ کار 10.22لاکھ روپے کی ہے اور ان کے پاس نقدی 13ہزار 344روپے ہے۔ انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ہے اور وکالت کے پیشہ سے وابستہ ہیں، ان کی ایک بی ایم ڈبلیو کار ہے جس کی مالیت 6.50 لاکھ ہوگی جبکہ سن2018-2019میں انہوں نے 263056 لاکھ روپے انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔


آدتیہ ایک غیر تقسیم ہندو خاندان (ایچ یو ایف) سے تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ تراملاک ان کے والد نے بطور تحفہ دی ہے جبکہ ان کی آمدنی اور منافع کے ذرائع کرایے، سود اور کمپنیوں کے شیئر اور حصص سے ہوئی ہے۔ ان کے ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک ،انڈین اوورسیزبینک، بینک آف مہاراشٹر، آئی ڈی بی آئی بینک، بھوانی سہکاری بینک، سرسوت کوآپرئٹیو بینک لمیٹیڈ میں کھاتے ہیں۔

انہوں نے پرچہ نامزدگی سے قبل اپنے دادا آنجہانی بال ٹھاکرے کی تصویر کے سامنے پیشانی جھکا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ماتوشری سے اپنے والد ادھوٹھاکرے اور والد ہ ریشمی اور ان کا چھوٹا بھائی تیجس کے ہمراہ الیکشن دفترکے لیے روانہ ہوئے۔ اس درمیان انہیں متعدد فون کالز موصول ہوئے جن میں مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کا کال بھی شامل تھا، واضح رہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیوسینا ایک ساتھ انتخابات لڑ رہے ہیں۔ جبکہ دفتر کے باہر شیوسینکوں کا مجمع لگا تھا۔ جوکہ باندرہ مشرق میں واقع ان کی رہائش گاہ اور ورلی میں الیکشن دفتر کے راستے میں جگہ جگہ کھڑے رہ کر ان کی تصویریں اٹھائے ہوئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 03 Oct 2019, 7:27 PM