ادھیر رنجن چودھری کا وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو خط، رمضان اور عید پر خصوصی انتظامات کا مطالبہ

کانگریس رہنما ادھیر رنجن چودھری نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھ کر رمضان اور عید الفطر کے موقع پر راشن، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ اور سرکاری تعطیلات سمیت مختلف خصوصی انتظامات کرنے کی اپیل کی ہے

<div class="paragraphs"><p>ادھیر رنجن چودھری / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کولکاتا: کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق رکنِ لوک سبھا ادھیر رنجن چودھری نے منگل کے روز مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے رمضان اور عید الفطر کے موقع پر خصوصی عوامی انتظامات کرنے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ رمضان اور عید مسلم برادری کے لیے غیر معمولی مذہبی اور سماجی اہمیت کے حامل تہوار ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس دوران عوامی سہولتوں کو یقینی بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کرے۔

ادھیر رنجن چودھری نے تجویز پیش کی کہ سرکاری راشن دکانوں پر چاول، دال، چینی، کھجور اور دیگر ضروری اشیا کی خصوصی فراہمی یا رعایتی نرخ پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بازاروں میں پھلوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیا اور باقاعدہ مارکیٹ مانیٹرنگ کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کی سفارش کی۔


انہوں نے اپنے مکتوب میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ افطار اور سحری کے اوقات میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے خاص طور پر سحری کے دوران صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے عید سے کم از کم دو ہفتے قبل اضافی ٹرینوں اور سرکاری بسوں کے چلانے کی تجویز دی، تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو سفر میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ادھیر رنجن چودھری نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جس ہفتے عید کی نماز ادا کی جائے، اس دوران اہم امتحانات مقرر نہ کیے جائیں تاکہ طلبہ کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔ روزہ رکھنے والے سرکاری ملازمین کی سہولت کے لیے دفتری اوقات میں عارضی تبدیلی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

انہوں نے عید کے موقع پر کم از کم تین دن کی سرکاری تعطیل کا اعلان کرنے کی مانگ کی اور کہا کہ اگر عید سے ایک دن قبل اور ایک دن بعد بھی چھٹی دی جائے تو بیرونِ ضلع یا دور دراز میں کام کرنے والے افراد اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منا سکیں گے۔ ان کے مطابق اس سے خاندانی رشتے مضبوط ہوں گے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور عوامی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

خط کے اختتام پر ادھیر رنجن چودھری نے لکھا کہ رمضان محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ صبر، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تجاویز کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں بلکہ تہوار کے موقع پر انتظامی حساسیت اور عوامی تعاون کا تقاضا ہیں۔