بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے گود لیے گاؤں میں موجود گڈھے بیان کر رہے بدحالی کی داستان

نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد’سانسد آدرش گرام یوجنا‘ کا اعلان کیا تھا۔ان کی آواز پر پاٹلی پترا بی جے پی ایم پی رام کرپال یادو نے بھی ایک گاؤں گود لیا تھا جس کی حالت ذرہ برابر بھی نہیں بدلی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں برسراقتدار ہونے کے بعد آدرش گرام یوجنا کا اعلان کیا تھا۔ لوگوں کو لگا تھا کہ اس منصوبہ کی کامیابی سے گاؤوں میں ترقی کی کہانی لکھی جائے گی۔ لیکن آج تقریباً ساڑھے چار سال گزر جانے کے بعد ان آدرش گاؤوں کو کسی بھی زاویے سے ’آدرش‘ یعنی رول ماڈل نہیں کہا جا سکتا۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کے گود لیے گاؤوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے کئی گاؤوں میں عام منصوبے تک نہیں پہنچے ہیں۔ ایسا ہی ایک گاؤں ہے بہار کی راجدھانی پٹنہ واقع ’پاٹلی پترا‘ کا ’سون مئی‘۔ پاٹلی پترا لوک سبھا حلقہ کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رام کرپال یادو ہیں۔

تقریباً چار سال قبل اچانک ’سون مئی‘ گاؤں سرخیوں میں آ گیا تھا۔ گاؤں تو پہلے بھی تھا لیکن اس وقت اسے ملک کے وزیر مملکت برائے دیہی ترقی نے گود لیا تھا۔ اس سے پہلے اس گاؤں کے بارے میں کوئی بات کرتا تھا اور نہ ہی گود لیے جانے کے کچھ مہینے بعد ہی اس گاؤں کے متعلق کچھ کہنا برسراقتدار لیڈروں کو پسند آیا۔ جب نتیش کمار نے مہاگٹھ بندھن میں رہتے ہوئے بہار کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رام کرپال یادو کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا تو اس گاؤں کا تذکرہ بھی ہوا تھا، لیکن نتیش کمار کے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے بعد تو اب یہ تذکرہ بھی بند ہو گیا۔ یہ ’سون مئی‘ گاؤں کا درد ہے جس کا احساس صرف اسی گاؤں کے لوگوں کو ہے۔

پٹنہ کے دھنروا ڈویژن کا سون مئی پنچایت کہنے کو سانسد گرام پنچایت ہے۔ کچھ کاغذ اور بورڈ پر ’آدرش گرام‘ لکھا ہوا نظر بھی آتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں عام پنچایت جیسی سہولت بھی نہیں ہے۔ اس پنچایت کو چار سال پہلے رام کرپال یادو نے گود لیا تھا۔ بحث اور امید اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ رکن پارلیمنٹ رام کرپال گاؤں گاؤں گھومنے، عام لوگوں کے سکھ دکھ میں ساتھ کھڑے رہنے کے لیے پہچانے جاتے رہے ہیں اور مرکز میں ان کی ذمہ داری بھی دیہی ترقی سے وابستہ ہے۔

سون مئی پنچایت کے لوگوں میں امید تھی کہ اب سون مئی کے بھی دن بدلیں گے۔ لیکن اب چار سال بعد نہ دن بدلے ہیں اور نہ ہی رات۔ دن میں گندگی-لاچاری نظر آتی ہے تو رات کی تاریکی میں گڈھا زدہ راستے پر گرنے کا درد تکلیف دیتا ہے۔ سون مئی گاؤں کا راستہ پوچھنے پر بتاتے تو سبھی ہیں لیکن سڑک پوچھنے پر کہتے ہیں کہ کچی ہے، روڈ نہیں۔ کار صرف وہی چلا سکتے ہیں جنھیں اس سڑک پر چلنے کی عادت ہے۔ ایک راہ گیر سے پوچھنے پر اس نے کہا کہ کوئی ٹریکٹر والا مل جائے تو بہتر یا پھر پھٹپھٹیا (گاؤں میں اب بھی بائک کو پھٹپھٹیا ہی کہا جاتا ہے) ہو تو جلدی پہنچ جائیں گے۔ گاؤں پہنچتے پہنچتے یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی۔ لوگوں کو کچی سڑک سے ہی سون مئی جانا پڑتا ہے۔ پہنچنے پر گاؤں والوں سے بات چیت شروع ہوئی۔ کہنے لگے کہ آپ تو ٹھیک موسم میں آئے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے برسات میں آتے تو پہنچنا مشکل تھا۔ وہ ٹھیک ہی کہہ رہے تھے، جہاں پانی بھرا تھا آج خشک ہونے کے بعد گڈھا ہے۔ کہنا مشکل ہے کہ راستے پر گڈھے ہیں یا گڈھوں میں راستہ۔

کچھ دیر چہل قدمی کرنے پر سون مئی مہادلت ٹولہ میں رکن پارلیمنٹ کی جانب سے ’سوچھ بھارت‘ کے نعرے کو بلند کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ پتہ چلا کہ کل 252 بیت الخلاء کی تعمیر کرائی گئی تھی۔ قابل استعمال کتنے ہیں، اس سوال پر استعمال کرنے والے کہتے ہیں کہ تقریباً 50 کا استعمال ہو رہا۔ ویسے استعمال تو سبھی کا ہوتا نظر آیا۔ یہ الگ بات ہے کہ زیادہ تر مہادلت فیملی ان کے اندر لکڑی-اوپلے رکھ رہے ہیں۔ صحت کی بات آئی تو ہیلتھ سنٹر کی طرف بڑھے۔ لوگ کہنے لگے کہ یہاں بھی سرکاری انتظام ہے۔ 11 بجے لیٹ نہیں، 12 بجے بھینٹ نہیں۔ دل میں سوال پیدا ہوا کہ کوئی دیکھنے والا کیوں نہیں؟ گاؤں کے لوگوں نے دل کی آواز کا سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ دیکھنے کی فرصت کسے ہے۔ کب کھلا، کب بند ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ گاؤں میں کسی کو چھوٹی موٹی کوئی بیماری ہوئی تو آس پاس کے کمپاؤنڈر کو دکھا لیتے ہیں۔ زیادہ طبیعت خراب ہوئی تو دس کلو میٹر دور دھنروا ڈویژن ہیڈ کوارٹر چلے جاتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس گاؤں کو رکن پارلیمنٹ نے گود لیا ہے؟ اس سوال کو پوچھا جانا گاؤں والوں کو اتنا ناگوار گزرتا ہے کہ کئی لوگ ایک آواز میں بول اٹھے... ’’رہنے دیجیے، گود-وود نمائش ہے۔ وزیر اعظم کو جا کر دکھاتے ہوں گے کہ ’ای کر دیا، او کر دیا‘، کیا کچھ نہیں۔‘‘ تفصیل سے پوچھنے پر کچھ کسانوں نے بتایا کہ سالوں سے لوگوں کا مطالبہ رہا ہے کہ دردھا ندی سے سون مئی پئین کو جوڑ دیا جائے۔ اس کے لیے کئی بار اراکین پارلیمنٹ سے گزارش کر چکے ہیں، لیکن کام نہیں ہوا۔ اس لیے گود اور آدرش گرام کی بات آتے ہی جیسے دماغ گھوم جاتا ہے۔ سون مئی تک وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی نصف آبادی کی طاقت پہنچی ہے، اس لیے خاتون مکھیا سروج دیوی سے بات کرنا بھی لازمی تھا۔ سروج نے کہا کہ چار سال میں مرکزی حکومت کا ایک بھی منصوبہ سون مئی پنچایت تک نہیں پہنچا ہے۔ سون مئی کے مڈل اسکول کے تین کمروں میں آج بھی آٹھ کلاس چل رہے ہیں۔ گرلز ہائی اسکول نہیں بن سکا تو پھر مزید کیا امید کریں۔ سانسد آدرش گرام یوجنا کے لیے میٹنگ تو کئی بار ہوئی لیکن کام کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔