قومی

ادم گونڈی: سماج کو آئینہ دکھانے والا عام آدمی کا شاعر 

ادبی طور پر ادم گونڈوی کی ایک بڑی کامیابی یہ رہی کہ وہ باتوں کو تلخی اور صاف گوئی سے رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی شاعری میں ان الفاظ کا بھی استعمال کیا جنہیں دوسرے شاعر ممنوع سمجھتے ہیں۔

قومی آواز گرافکس

پرگتی سکسینہ

ادم گونڈوی کی برسی پر خاص

رام ناتھ سنگھ عرف ادم گونڈوی اس سلسلہ کے شاعر ہیں جنہوں نے ہمیشہ زمین سے جڑے لوگوں اور ان کے مسائل کو بہت ہی سادہ لیکن تلخ الفاظ میں بیان کیا ہے۔ دُشینت کمار کی طرح ادم گونڈوی نے بھی ایسی شاعری کہی جو قطار کے سب سے آخر میں کھڑے شخص کے بارے میں تھی اور اسے سمجھ بھی آتی ہے۔ عموماً شاعری انقلابی مسائل پر بات تو کرتی ہے لیکن وہ سماج میں نثر کی طرح عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر پاتی لیکن ادم گونڈوی کی شخصیت ایسی تھی جس میں گاؤں کی نم ناک زمین کی سوندھی خوشبو جذب ہے۔

ادم گونڈوی ایسے شاعر تھے جنہیں کبھی ادب کے نام نہاد شہرت یافہ اعزازات حاصل نہیں ہوئے۔ دراصل اعزازات شہری، دانشور اور نفیس قسم کے شاعروں کو ملتے ہیں، لیکن لوگوں کے ذہنوں میں کبیر، تلسی، دشینت کمار اور ادم گونڈوی جیسے شاعروں کے الفاذ اور قول زندہ رہتے ہیں اور یہی شاعری کی طاقت ہے۔

ادبی طور پر ادم گونڈوی کی ایک بڑی کامیابی یہ رہی کہ وہ باتوں کو تلخی اور صاف گوئی سے رکھتے ہیں، انہوں نے اپنی شاعری میں ان الفاظ کا بھی استعمال کیا جنہیں دوسرے شاعر ممنوع سمجھتے ہیں۔ ان کی شاعری دیکھیں،

کھیت جو سیلنگ کے تھے سب چک میں شامل ہو گئے

ہم کو پٹے کی سند ملتی بھی ہے تو تال میں۔

کاجو بھُنے پلیٹ میں وِسکی گلاس میں

اترا ہے رام راج ودھایک نواس میں

چل رہی ہے چھند کے آیام کو دیتی دِشا

میں اسے کہتا ہوں سرجو پار کی مونالِسا

کیا کہیں سرپنچ بھائی کیا زمانہ آ گیا

کل تلک جو پاؤں کے نیچے تھا رُتبہ پا گیا

کہتی ہے سرکار کہ آپس میں مل جل کر رہو

سور کے بچوں کو اب کوری نہیں ہریجن کہو

کہہ دو ان کتوں کے پلوں سے کہ اِترائیں نہیں

حکم جب تک میں نہ دوں کہہ دوں کوئی کہیں جائے نہیں

یہ داروغہ جی کے منہ سے شبد جھرتے پھول سے

آ رہے تھے ٹھیلتے لوگوں کو اپنے رول سے

ادم کی زبان کی روانگی یہ ہے کہ اردو اور ہندی یہاں تک کہ ٹھیٹ دیہاتی الفاذ کو بھی آسانی سے غزل کا حصہ بنا جاتے ہیں اور معلوم ہی نہیں چلتا کہ کب اشعار زبان پر چڑھ گئے۔

کسی بھی مہم یا پارٹی کے نظریہ کی حمایت کرنے کی بجائے ان کی شاعری صرف ایک عام شہری کی تکلیف، ان کا غصہ اور بے بسی ہی بیان کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں رحم ہے تو المیہ بھی ہے، غصہ ہے تو لاچاری کا احساس بھی ہے۔ وہ سماج کو اس کی ذہنیت پر کبیر کی طرح جھڑکتے ہیں تو اس ذہنیت میں پھنسے ایک شخص کی تکلیف پر بھی اتنے ہی مؤثر انداز میں کہتے ہیں۔

شاید ہی کسی ہندی یا اردو شاعر نے اتنی بے باکی سے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو لتاڑا ہوگا جس طرح سے ادم گونڈوی نے لتاڑا ہے۔ متعدد مسائل پر وہ ہمارے سماج اور سیاست کے دوغلے پن کو سٹیک اور تلخ بیانی سے ظاہر کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جب ذات، مذہب یہاں تک کہ صنفی سیاست زندگی کو دوبھر اور بوجھل بنائے ہوئے ہے، ادم گونڈوی کی شاعری اور بھی موزوں ہو گئی ہے۔

وہ عظیم شاعر تو نہیں تھے لیکن ہاں وہ عوام کے شاعر تھے اور ہمیشہ اپنی بے باک غزلوں اور نظموں سے اس سماج کو آئینہ دکھاتے رہیں گے۔

Published: 18 Dec 2018, 8:05 PM