مدھیہ پردیش میں گیہوں کی خریداری میں گڑبڑی پر افسران پر بھی ہو کارروائی: جیتو پٹواری

جیتو پٹواری نے کہا کہ ’’اگر فرضی کسان بنے، دوسری ریاستوں کا گیہوں خریدا گیا، کروڑوں روپے کی ادائیگی ہوئی اور اتنا بڑا نظام مہینوں تک چلتا رہا، تو کیا اس کی ذمہ داری صرف پٹواریوں پر عائد ہوتی ہے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

مدھیہ پردیش میں سپورٹ پرائس پر ہوئی گیہوں کی خریداری میں کئی مقامات پر گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں، جس پر نچلے درجے کے ملازمین یعنی پٹواریوں پر کارروائی بھی ہوئی ہے۔ اس پر کانگریس کے صوبائی صدر جیتو پٹواری نے سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ کارروائی تو بڑے افسران پر ہونی چاہیے۔ ریاست کے مختلف اضلاع کے پٹواریوں پر ہونے والی کارروائی کے حوالے سے کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیہوں کی سپورٹ پرائس کے گھوٹالے میں سوال صرف پٹواریوں پر کارروائی کا نہیں، بلکہ بی جے پی کی جوابدہی کا ہے۔

جیتو پٹواری نے کہا کہ اگر فرضی کسان بنے، دوسری ریاستوں کا گیہوں خریدا گیا، کروڑوں روپے کی ادائیگی ہوئی اور اتنا بڑا نظام مہینوں تک چلتا رہا، تو کیا اس کی ذمہ داری صرف پٹواریوں پر عائد ہوتی ہے؟ انہوں نے اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی اور انکوائری نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت بتائے کہ محکمہ زراعت، منڈی کے نظام اور اعلیٰ سطح کے ذمہ دار افسران سمیت بی جے پی کی قیادت کے کردار کی جانچ کیوں نہیں کی جا رہی ہے؟ اگر گھوٹالہ اتنا بڑا ہے، تو صرف نچلی سطح پر کارروائی کر کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کیوں نظر آ رہی ہے؟


جیتو پٹواری نے عوام کی جانب سے سوال اٹھایا ہے کہ کیا وزیر زراعت اخلاقی ذمہ داری لیں گے؟ کیا پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے سیاسی سرپرستی کی بھی جانچ ہوگی؟ اگر نہیں تو یہ کارروائی صرف چھوٹے ملازمین کو ’بلی کا بکرا‘ بنا کر بڑے ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش مانی جائے گی۔ واضح رہے کہ ریاست میں بی جے پی کی موہن یادو حکومت بدعنوانی کے معاملے میں مسلسل ’زیرو ٹالرینس‘ کی بات کر رہی ہے۔ اسی پر طنز کستے ہوئے جیتو پٹواری نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف ’زیرو ٹالرینس‘ کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ کروڑوں روپے کے اس مبینہ گھوٹالے کی جوابدہی آخر کس کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔