گجرات سنٹرل یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کونسل الیکشن میں اے بی وی پی کی شرمناک شکست

این ایس یو آئی اور لیفٹ کے مشترکہ محاذ کی تاریخی فتح سے پرجوش کامیاب امیدوار نے کہا کہ آج کی فتح مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، بابا صاحب امبیڈکر، سردار پٹیل، بھگت سنگھ اور مولانا آزاد کے نظریات کی فتح ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گجرات سنٹرل یونیورسٹی میں ہوئے اسٹوڈنٹس کونسل الیکشن میں اے بی وی پی کو شکست فاش ہاتھ لگی ہے۔ این ایس یو آئی، ایس ایف آئی، ایل ڈی ایس ایف اور باپسا کے مشترکہ محاذ کے طلبا نے اس الیکشن میں زبردست کامیابی درج کرتے ہوئے اے بی وی پی سمیت ریاست اور مرکز کی بی جے پی حکومت کو جھٹکا دیا ہے۔ چاروں طلبا تنظیموں کے مشترکہ محاذ کی اس تاریخی فتح سے طلبا کے درمیان خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق گجرات سنٹرل یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں ہوئے الیکشن میں مشترکہ محاذ کے امیدواروں نے اے بی وی پی امیدواروں کو بہت بڑے فرق سے ہرایا ہے۔ یونیورسٹی کے لینگویج اینڈ لٹریچر سنٹر سے ایس ایف آئین کے چترنجن کمار، انٹرنیشنل سنٹر سے ایل ڈی ایس ایف کی پراچی لوکھنڈے، سوشل سائنس سنٹر سے باپسا کے اشرف دیوان، لائبریری سائنس سے این ایس یو آئی کے وجیندر کمار نے کامیابی درج کی ہے۔

سوشل سائنس سنٹر میں کل 167 ووٹوں میں سے اشرف کو 114 ووٹ ملے جب کہ اے بی وی پی کے پراچی راول کو محض 45 ووٹ پڑے۔ انٹرنیشنل سنٹر میں پراچی لوکھنڈے کو یہاں پڑے کل 38 ووٹوں میں سے 30 ووٹ ملے جب کہ اے بی وی پی کے راما ججولا کو محض 8 ووٹ ملے۔ وہیں لینگویج اینڈ لٹریچر سنٹر میں کل 166 ووٹ پڑے جن میں سے چترنجن کو 94 ووٹ ملے جب کہ اے بی وی پی کے امیدوار کو یہاں 68 ووٹ ملے۔ لائبریری سائنس میں وجیندر کمار کو 15 ووٹ ملے جب کہ اے بی وی پی کے امرین تاج کو محض ایک ووٹ حاصل ہوا۔

اس تاریخی فتح سے پرجوش یونیورسٹی کے طلبا لیڈروں نے کہا کہ آج کی کامیابی مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، بابا صاحب امبیڈکر، سردار پٹیل، بھگت سنگھ اور مولانا آزاد کے نظریات کی فتح ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ یہ کامیابی اصل معنوں میں آئین کو ماننے والوں کی کامیابی ہے۔