مدھیہ پردیش کے تقریباً آدھا درجن حصے کو ابھی بارش سے راحت کی امید نہیں

مدھیہ پردیش کے تقریباً آدھے سے بھی زیادہ حصے کو ابھی اگلے چار پانچ دن تک شدید اور بہت شدید بارش سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

بھوپال: مدھیہ پردیش کے تقریباً آدھے سے بھی زیادہ حصے کو ابھی اگلے چار پانچ دن تک شدید اور بہت شدید بارش سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ مقامی محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی مدھیہ پردیش میں تو بارش کا اثر امیدکے مطابق کم ہے،لیکن مغربی مدھیہ پردیش میں بارش کی شدت اور اثر بہت زیادہ ہے اور آئندہ چار پانچ دن تک موسم کا حال تقریباً ایسا ہی بنے رہنے کا امکان ہے۔

محکمے نے بدھ کو ریاست کے 17 اضلاع، اندور، دھار، کھنڈوا، خرگون، علی راج پور، جھابوا، بڑوانی، برہان پور، اجین، رتلام، شاجا پور، دیواس، نیمچ، مندسور، ہوشنگ آباد، بیتول اور ہردا کے متعدد علاقوں میں شدید بارش ہونے کی وارننگ جاری کی ہے۔ وہیں 20 اضلاع بھوپال، رائے سین، راج گڑھ، ویدیشا، سیہور، گنا، اشوک نگر، انوپ پور، ڈنڈوری، امریا، شہ ڈول، ریوا، ساگر، سیونی، نرسنگھ پور، جبل پور، منڈلا، کٹنی، چھندواڑا اور بالا گھاٹ اضلاع میں شدید بارش ہونے کی وارننگ جاری کی ہے۔

ریاست کے تقریباً آدھے حصے کو گزشتہ چار دن سے شدید بارش سے کوئی راحت نہیں ملی ہے۔اس کی وجہ سے ندی نالے ،سڑکوں پر آکربہنے لگے ہیں اور مختلف مقامات کا ایک دوسرے سے سڑک رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔تقریباً سبھی باندھ اور آبی ذخائر کے دروازے کھولے جانےسے نرمدا،چمبل،بیتوا،پاروتی اور کالی سندھ ندیاں طغیانی پر آنے سے آبی سطح بڑھنےسے ندیوں کے آس پاس بسے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

اشوک نگر ضلع میں بیتوا ندی طغیانی پر ہے جس کی وجہ سے ضلع کا بینا اور للت پور سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ بارش سے سیہور، ویدیشا، بڑوانی، ہردا اور رائے سین ضلع سب سے زیادہ متاثر ہے۔ سیہور میں ضلع ہیڈکوارٹر پر بھی نچلی بستیوں میں پانی بھر گیا ہے۔ وہیں ویدیشا میں بھی 900 سے زیادہ لوگ راحت کیمپوں میں پناہ ہئے ہوئے ہیں۔