کشمیر سے دفعہ 370 کا اسقاط حکومت کا غلط اقدام: حزب اختلاف

حزب اختلاف کی پارٹیوں نے کشمیر سے دفعہ 370 کو ساقط کرنے کے حکومت کے اقدام کو غلط قرار دیا، جبکہ حکمراں پارٹی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا

پارلیمنٹ ہاؤس / تصویر بشکریہ راجیہ سبھا ٹی وی
پارلیمنٹ ہاؤس / تصویر بشکریہ راجیہ سبھا ٹی وی
user

یو این آئی

نئی دہلی: حزب اختلاف کی پارٹیوں نے کشمیر سے دفعہ 370 کو ساقط کرنے کے حکومت کے اقدام کو غلط قرار دیا، جبکہ حکمراں پارٹی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔

جموں وکشمیر اور پڈوچیری کے اضافی مطالبات زر پر بحث میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جمیانگ نامیگل نے کہا کہ حکومت نے دونوں مرکزی علاقوں میں بجٹ کا بہت اچھا الاٹمنٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیاما پرساد مکھرجی کبھی بھی آرٹیکل 370 کے حق میں نہیں تھے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر سے 370 کو ختم کرکے ان خوابوں کو پورا کیا ہے۔ انہوں نے لداخ کی ترقی کے لئے ضلع کی تشکیل کا مطالبہ کیا اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

ترنمول کانگریس کے سوگتا رائے نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ سال 2019 میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنا اور جموں و کشمیر کو ایک مرکزی خطہ بنانا غلط اقدام تھا۔ اسی طرح لداخ کو ریاست سے الگ کرنا بھی ایک غلط اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دے کر ریاستی اسمبلی کو بحال کیا جائے، تاکہ وہاں کے عوام کو حقوق مل سکیں۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کشمیر کو آگے لے جائے گی، لیکن وہاں کے لوگ ابھی بھی ناخوش ہیں۔


سوگاتا رائے نے کہا کہ حکومت نے جموں و کشمیر سے 370 ختم کرکے امن قائم کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا ، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ آج بھی دہشت گردی پر کوئی قابو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڈوچیری میں امن ہونا چاہئے کیونکہ ساری دنیا سے وہاں سیاح آتے ہیں۔ بیجو جنتا دل کے بھرتری مہتاب نے ریاست جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ریاستوں کے ملازمین کی طرح ہی وہاں کے ملازمین کو بھی فائدہ ملنا چاہئے۔

نیشنل کانفرنس کے حسن مسعودی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کو نقصان پہنچایا گيا۔ 5 اگست کو ایک آگ لگائی گئی تھی اور اس کی لپیٹ میں کیا آئے گا، یہ مستقبل میں پتہ چل جائے گا۔ اگر حکومت جموں وکشمیر میں امن لانا چاہتی ہے تو اسے خود احتسابی کرنی چاہئے۔ تکبر ہماری روایت نہیں ہے، لہذا حکومت کو گھمنڈ چھوڑ کر ریاست میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے ہی جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ اس کے لئے حکومت کو خصوصی گرانٹ دینا چاہئے۔ اس سے قبل ریاست ہر سال دس لاکھ سیاحوں کی زیارت کرتی تھی، ان میں سے تین لاکھ غیر ملکی آسکے۔ مسعودی نے کہا کہ حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ غیر قانونی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔