عام آدمی پارٹی بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ثابت ہوئی، اراکین کے انحراف پر دیویندر یادو کا سخت حملہ

دیویندر یادو نے عام آدمی پارٹی کے اراکین کے بی جے پی میں شامل ہونے پر کہا کہ پارٹی بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔ انہوں نے اسے دہلی اور ملک کے عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی

<div class="paragraphs"><p>دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے عام آدمی پارٹی کے اراکینِ راجیہ سبھا کے بی جے پی میں شامل ہونے کے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اپنے دیرینہ موقف کی تصدیق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی دراصل بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر کام کر رہی تھی اور اب یہ بات پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔

دیویندر یادو نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پہلے دن سے یہ بات کہتے آ رہے تھے کہ عام آدمی پارٹی کا کردار مشکوک ہے اور اب جب اس کے کئی اراکین بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان پس پردہ تال میل موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال حیران کن نہیں بلکہ متوقع تھی، کیونکہ پارٹی کے اندرونی حالات شروع سے ہی غیر مستحکم رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام آدمی پارٹی کے قیام کے وقت عوام کو اس سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور یہ تاثر دیا گیا تھا کہ یہ جماعت عام لوگوں کی خدمت کے لیے وجود میں آئی ہے۔ تاہم، ان کے مطابق اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی پارٹی کے اہم رہنما یا تو خود الگ ہو گئے یا انہیں نکال دیا گیا، جس سے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔


دیویندر یادو نے گزشتہ 12 برسوں کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں عام آدمی پارٹی نے سنجیدہ طرزِ حکمرانی کے بجائے محض دکھاوے اور سیاسی ڈرامے بازی کا سہارا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرزِ سیاست کا سب سے زیادہ نقصان دہلی کے عوام کو اٹھانا پڑا، کیونکہ انہوں نے اعتماد کے ساتھ اس جماعت کو اقتدار سونپا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی نے نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک کے عوام کو گمراہ کیا اور اپنے وعدوں پر پورا نہیں اتری۔ ان کے مطابق اس انحراف نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بن کر یہ جماعت اپنے اصل مقصد سے ہٹ چکی تھی۔

دیویندر یادو نے کہا کہ اب جبکہ یہ پردہ اٹھ چکا ہے، عوام کو حقیقت سمجھ میں آ رہی ہے اور وہ اس طرح کی سیاست کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوری نظام میں شفافیت اور اصولوں کی پاسداری ضروری ہے، لیکن اس معاملے میں ان دونوں کی واضح کمی نظر آتی ہے۔

دیویندر یادو نے کہا کہ اس پورے معاملے نے دہلی اور ملک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے وقت میں اس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام کا اعتماد بحال کرنا اب سب سے بڑا چیلنج ہوگا اور اس کے لیے سنجیدہ اور دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔