رَوی داس مندر معاملہ پر سیاست تیز، عآپ رکن اسمبلی نے پھاڑی اپنی شرٹ

دہلی کے امبیڈکر نگر سے رکن اسمبلی اجے دت نے مندر منہدم کیے جانے پر دہلی اسمبلی کے باہر اپنی قمیض پھاڑ ڈالی اور کہا کہ ’’اگر بی جے پی ہمیں جینے نہیں دینا چاہتی ہے تو اسے ہمیں ڈنڈوں سے مارنا چاہیے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گرو روی داس مندر توڑے جانے کے بعد دہلی میں کچھ مقامات پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں اور خصوصی طور پر تغلق آباد میں جہاں مندر منہدم کیا گیا ہے، وہاں حالات کافی کشیدہ ہیں۔ بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد سمیت 95 لوگوں کو گرفتار کیے جانے کے بعد دلتوں میں ناراضگی مزید بڑھ گئی ہے۔ جس طرح سے دلتوں پر لاٹھیاں چلائی گئیں اور انھیں گرفتار کیا گیا، اس پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پہلے ہی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اب عآپ رکن اسمبلی اجے دَت نے مندر توڑے جانے پر سخت احتجاج ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف آواز اٹھائی۔

22 اگست کو تغلق آباد اور رام لیلا میدان میں روی داس مندر توڑے جانے کے خلاف سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ماحول انتہائی کشیدہ رہا۔ اس درمیان دہلی کے امبیڈکر نگر سے رکن اسمبلی اجے دت نے مندر منہدم کیے جانے پر دہلی اسمبلی کے باہر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے احتجاجاً اپنی قمیض پھاڑ ڈالی اور کہا کہ ’’اگر بی جے پی ہمیں جینے نہیں دینا چاہتی ہے تو اسے ہمیں ڈنڈوں سے مارنا چاہیے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ سَنت روی داس مندر توڑے جانے کے بعد 22 اگست کو اروند کیجریوال نے بھی ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’’مندر توڑے جانے پر لوگ مایوس ہیں۔ میری گزارش ہے کہ اس سلسلے میں سیاست نہ کی جائے۔ مرکزی حکومت برائے کرم آرڈیننس لا کر یہ زمین مندر کو دے دے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’یہ زمین فاریسٹ کی ہے۔ بدلے میں دہلی حکومت 100 ایکڑ زمین پر درخت لگائے گی اور سنت روی داس جی کا عظیم الشان مندر بنائے گی۔‘‘

واضح رہے کہ تغلق آباد واقع گرو روی داس مندر کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ہائی کورٹ کے حکم پر منہدم کر دیا تھا۔ عدالت نے اپنے حکم میں ڈی ڈی اے سے کہا تھا کہ ایک ہی دن میں متنازعہ زمین کو خالی کرایا جائے اور ڈھانچے کو گرا دیا جائے۔ مندر منہدم ہونے کے بعد بدھ کو دلت مظاہرین سڑکوں پر زبردست مظاہرہ کیا۔ اس سےد ہلی کے مختلف حصوں میں ٹریفک نظام پر منفی اثر پڑا۔ مظاہرین مودی حکومت سے مندر دوبارہ بنائے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرے کے دوران دلتوں نے تشدد کا بھی سہارا لیا جس میں پولس اہلکار سمیت کئی لوگ زخمی ہو گئے تھے۔

مندر توڑے جانے کے بعد دلت طبقہ کی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ خون خرابہ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹنے کی بات کر رہے ہیں۔ دلتوں کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اس مندر کی تعمیر کرے، اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم خون خرابہ کے لیے بھی تیار ہیں۔‘‘

Published: 23 Aug 2019, 11:10 AM