عآپ کی فہرست: کیجریوال کی بدعنوانی کے خلاف لڑائی والی شبیہ کو شدید جھٹکا

عام آدمی پارٹی کی امیدوار لسٹ سے پارٹی کو زبردست نقصان ہوا ہے اور اس کی ایماندار اور بدعنوانی کے خلاف شبیہ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ کیجریوال کے پاس اب صرف مفت سہولیات دینے کا ہی ایک ہتھیار بچا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے اور اس اعلان کے فوراً بعد جو رد عمل سامنے آیا ہے اس سے پارٹی کو زبردست نقصان ہوا ہے۔ پارٹی کے بدرپور سے رکن اسمبلی این ڈی شرما نے پارٹی کی رکنیت سے استعفی دیتے ہوئے پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ پارٹی نے ٹکٹ بیچے ہیں، انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی نے کانگریس سے آئے رام سنگھ نیتا کو کئی کروڑ روپے لے کر ٹکٹ دیا ہے۔ اس الزام سے پارٹی کی پہلے سے بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں خراب ہوتی شبیہ کو مزید نقصان ہوا ہے۔

صرف یہ ہی نہیں کہ پارٹی پر بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں بلکہ ناراضگی اس بات پر بھی ہے کہ کانگریس کے کئی ایسے رہنماؤں کو اپنی پارٹی کا امیدوار بنایا ہے جن پر پہلے سے کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ پہلا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پارٹی کے حق میں ہوا چل رہی ہے تو پھر دوسری پارٹیوں سے امیدوار امپورٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے اور وہ بھی ایسے امیدوار جن کی شبیہ پر پہلے سے ہی کئی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ پارٹی نے 67 میں سے 23 ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دیا ہے جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پارٹی ارکان کی ایک بڑی تعداد سے خود پارٹی مطمئن نہیں ہے، عوام کو تو چھوڑیئے، اگر پارٹی کے 23 ارکان کی کارکردگی اتنی خراب ہے کہ ان کو امیدوار نہیں بنایا جا سکتا تو کیا پارٹی کی حالت اور کارکردگی کو اچھا کہا جا سکتا ہے۔ پنکج پشکر کو ٹکٹ نہ دینے کے پیچھے وجہ صاف ہے کہ وہ پارٹی کے غلط فیصلوں کے خلاف بولتے رہے ہیں اور اگر عام آدمی پارٹی میں سوال اٹھانے کی سزا یہ ہے تو پھر یہ پارٹی دیگر پارٹیوں سے کیسے اچھی ہو سکتی ہے۔

عام آدمی پارٹی نے پانچ مسلم اکثریتی علاقوں سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیئے ہیں جن میں دو جگہ سے امیدواروں کو تبدیل کیا گیا ہے۔ سیلم پور اسمبلی حلقہ سے حاجی اشراق کی جگہ کونسلر عبدل رحمان کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ پرانی دہلی کے مٹیا محل اسمبلی حلقہ سے محمد عاصم کی جگہ کانگریس سے آئے شعیب اقبال کو ٹکٹ دیا ہے۔ ادھر پارٹی نے اپنے لوک سبھا کے تین امیدواروں کو اسمبلی کا ٹکٹ دیا ہے جن میں جنوبی دہلی کے لوک سبھا امیدوار راگھو چڈھا کو راجندر نگر سے ٹکٹ دیا ہے، مشرقی دہلی کی لوک سبھا امیدوار آتشی مرلینا کو کالکا جی سے اور شمال مشرقی دہلی کے لوک سبھا امیدوار دلیپ پانڈے کو تیمارپور سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ کانگریس سے آنے والے شعیب اقبال، پرہلاد سنگھ ساہنی، رام سنگھ نیتا اور مہابل کے بیٹے ونے مشرا کو ٹکٹ دیا ہے۔ شعیب اقبال، ونے مشرا اور رام سنگھ نیتا کے خلاف پارٹی میں ناراضگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کو امیدوار بنائے جانے سے پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے۔

جن 15 ارکان اسمبلی کے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں ان میں سب سے حیرانی والا فیصلہ لال بہادر شاسری کے پوتے آدرش شاستری کا ہے جنہوں نے’ ایپل‘ کمپنی کی بہت بڑی نوکری چھوڑ کر سیاست میں شرکت کی تھی اور پارٹی کے لئے بہت کام بھی کئے تھے۔ آدرش شاستری کی شبیہ انتہائی ایماندار سیاستداں کی ہے اور تین دن پہلے تک وہ انتخابات لڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔ آدرش شاستری کو سنجے سنگھ کا قریبی تصور کیا جاتا ہے اور ان کی جگہ مہابل مشرا کے بیٹے ونے شرما کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ مشرا پہلے پالم سے انتخابات ہار چکے ہیں۔

عام آدمی پارٹی کی امیدوار لسٹ سے پارٹی کو زبردست نقصان ہوا ہے اور اس کی ایماندار اور بدعنوانی کے خلاف شبیہ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ کیجریوال کے پاس اب صرف مفت سہولیات دینے کا ہی ایک ہتھیار بچا ہے۔

Published: 15 Jan 2020, 5:11 PM
next