آدھار کارڈ اور ووٹ شناختی کارڈ کو پیدائش سرٹیفکیٹ تصور نہیں کیا جا سکتا: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کہا کہ آدھار اور ووٹر شناختی کارڈ کسی شخص کی پیدائش کا پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایمپلائی سروس ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش ہی قابل قبول ہے۔

عدالت، علامتی تصویر
i
user

قومی آواز بیورو

آدھار اور ووٹر شناختی کارڈ سے متعلق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے آج انتہائی اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ آدھار کارڈ اور ووٹ شناختی کارڈ کسی شخص کی پیدائش کا پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ عدالت نے ایک ملازم کے ذریعہ داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ایمپلائی سروس ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش ہی قابل قبول ہے۔

دراصل درھار ضلع کے ایڈیشنل کلکٹر کے حکم کو چیلنج پیش کرتے ہوئے ایک رِٹ پٹیشن داخل کی گئی تھی۔ ایڈیشنل کلکٹر نے ہیرالال بائی (رسپانڈنٹ نمبر 5) کی اس عرضی کو منظوری دے دی تھی، جس میں ان کے ریٹائرمنٹ کو چیلنج پیش کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے ہیرالال بائی کو آنگن واڑی اسسٹنٹ کے عہدہ پر پھر سے بحال کر دیا گیا اور پٹیشنر کو ملازمت سے ہٹا دیا گیا، کیونکہ آنگن واڑی اسسٹنٹ کا صرف ایک ہی منظور عہدہ تھا۔


عرضی دہندہ کے مطابق محکمہ ترقی برائے خواتین و اطفال کے ذریعہ جاری پالیسی گائیڈلائن کے مطابق سلیکشن پروسیس کے بعد انھیں آنگن واڑی اسسٹنٹ کے عہدہ پر مقرر کیا گیا تھا۔ انھیں جون 2018 میں اپوائنٹمنٹ آرڈر جاری کیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ ہیرالال بائی پہلے بھی اسی عہدہ پر کام کر رہے تھے اور دفتر سروس ریکارڈ کے مطابق وہ 62 سال کی عمر میں سبکدوش ہو گئی تھیں۔ ریٹائرمنٹ کے اس حکم پر ہیرالال بائی نے کبھی سوال نہیں اٹھایا، یا اسے چیلنج پیش نہیں کیا۔ عہدہ خالی ہونے کے بعد اہل افسر نے ایک اشتہار جاری کیا اور سلیکشن پروسیس پورا کیا۔

ہیرالال بائی نے اپنے ریٹائرمنٹ کے تقریباً 2 سال بعد اپیل فائل کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے پیدائش کی تاریخ غلط درج کی گئی تھی، اور ان کی پیدائش 5 مارچ 1955 نہیں بلکہ ان کے آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ کی بنیاد پر یکم جنوری 1964 کو ہوئی تھی۔ ہیرالال بائی کے وکیل نے کہا کہ ایک بار اپیل اتھارٹی نے ان کے ریٹائرمنٹ کے آرڈر کو رد کر دیا تو ڈپارٹمنٹ اسے ماننے کے لیے مجبور تھا، کیونکہ آنگن واڑ اسسٹنٹ کے لیے صرف ایک ہی منظور پوسٹ تھی۔ عدالت نے کہا کہ ہیرالال بائی اپنے آفیشیل سروس ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش کی بنیاد پر 5 مارچ 2017 کو ریٹائر ہو چکی تھیں۔


اس معاملے میں سماعت کے دوران عدالت نے دہرایا کو جو ایمپلائی سروس ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش کو قبول کرتا ہے اور اسے فائنل ہونے دیتا ہے، اسے ریٹائرمنٹ کے بعد اسے چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے یہ بھی دہرایا کہ سروس معاملوں میں آفیشیل سروس ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش کو درست مانا جاتا ہے اور یہ سروس کی مدت، سینئرٹی اور ریٹائرمنٹ طے کرنے کی بنیاد بنتی رہتی ہے۔ اس لیے ایسی انٹری کو جلد از جلد چیلنج دیا جانا چاہیے، اور اس کے ساتھ قابل قبول ثبوت ہونے چاہئیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ عرضی دہندہ کو اس کی سروس ختم کرنے کا آرڈر پاس کرنے سے پہلے کبھی سماعت کا موقع نہیں دیا گیا۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایڈمنسٹریٹو یا کواسی-جیوڈیشیل آرڈر جس کے سول نتیجے ہوں، اسے فطری انصاف کے اصولوں، خصوصاً آڈی الٹرم پارٹم کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔ اس لیے بنچ نے مانا کہ اپیل اتھارٹی کا آرڈر ناقابل قبول تھا اور عرضی دہندہ کی سروس ختم کرنے کے لیے آرڈر ٹکنے لائق نہیں تھا۔ اس طرح بنچ نے مواخذہ سے متعلق آرڈر کو منسوخ کر دیا اور جواب دہندگان کو ہدایت دی کہ وہ عرضی دہندہ کو عہدہ پر واپس لائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔