’پاکستان زندہ باد‘ نعرہ لگانے والی امولیہ لیونا کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج

اسدالدین اویسی کی ریلی کے دوران اسٹیج سے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والی امولہی لیونا کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ امولیہ کو بنگلورو کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف بنگلورو کی ایک تقریب میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والی لڑکی امولیہ لیونا کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھی بھیج دیا گیا ہے۔ امولیہ لیونا نے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی کی سی اے اے مخالف ریلی میں ان کی موجودگی میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا تھا جس کی وجہ سے کافی ہنگامہ برپا ہوگیا۔

دراصل اسدالدین اویسی کی ریلی جمعرات کو منعقد ہوئی تھی جس میں امولیہ نے اسٹیج پر پہنچ کر ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگا دیا۔ اس کے بعد ریلی میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اس واقعہ کے بعد اویسی اسٹیج پر پہنچے اور امولیہ سے مائک چھیننے کے لیے بڑھے۔ کچھ دیگر لوگوں نے بھی امولیہ کو اسٹیج سے ہٹانے کی کوشش میں آگے بڑھے۔ لیکن امولیہ اپنی بات رکھنے کے لیے اسٹیج پر بضد نظر آئی۔ بعد میں پولس نے آگے بڑھ کر امولیہ کو اسٹیج سے ہٹایا۔ واضح رہے امولیہ نے بعد میں اپنی بات کہنے کے لئے ہندوستان زندآباد کے نعرے بھی لگائے لیکن منتظمین نے اس کو پولیس کے ذریعہ اسٹیج سے نیچے اتروا دیا۔

اس واقعہ کے بعد اسدالدین اویسی نے مائک ہاتھ میں لے کر ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والی لڑکی کی مذمت کی۔ اویسی نے اس واقعہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے جیسے ہی سنا کہ اسٹیج پر کوئی ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگا رہا ہے تو میں دوڑ کر آیا۔ میں نماز پڑھنے کے لیے جا رہا تھا جب یہ نعرہ لڑکی نے لگایا۔ میں نے جیسے ہی یہ واہیات نعرہ سنا تو آ کر اسے روکا۔ اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ان کو (امولیہ کو) ملک سے کوئی محبت نہیں ہے۔ میں اس طرح کی بات کی مذمت کرتا ہوں۔ اس طرح کی حرکت کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان زندہ باد ہے اور رہے گا۔‘‘

امولیہ کے والد کا بھی اس پورے معاملے میں رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی ایک خاص طبقہ کے لوگوں سے متاثر تھی اور اسے ایسی سرگرمیوں سے دور رہنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن وہ نہیں مانی۔ اس کے والد نے کہا کہ وہ بیتی کے اس عمل کی حمایت نہیں کرتے اور پولیس جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔ ادھر خبر ہے کہ کل کچھ شدت پسندوں نے امولیہ کے گھر پر توڑ پھوڑ کی۔