نئے سال کے پہلے ہی دن زوردار دھماکہ سے ہماچل پردیش میں افرا تفری، کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ فوجی بھون، پولیس تھانہ اور مارکیٹ کمیٹی کی عمارتیں کانپ گئیں۔ فورنسک ٹیم جائے وقوع سے نمونے جمع کر رہی ہے تاکہ دھماکہ کی وجہ کا پتہ لگایا جا سکے۔

دھماکہ، علامتی تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

ہماچل پردیش کے سولن میں نالاگڑھ واقع پولیس تھانہ کے پاس آج نئے سال کی صبح زوردار دھماکہ نے افرا تفری کا ماحول پیدا کر دیا۔ اس دھماکہ کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنائی دی اور دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے تک ٹوٹ گئے۔ ان میں فوجی بھون، پولیس تھانہ اور مارکیٹ کمیٹی کے دفتر کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔

دھماکہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر افسران جائے وقوع پر پہنچے۔ انھوں نے تحقیقات شروع کر دی ہے، لیکن ابھی تک دھماکہ کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ جائے وقوع کو سیل کر دیا گیا ہے اور فورنسک ٹیم نمونے اکٹھا کرنے میں مصروف ہو گئی ہے۔ دھماکہ کے وقت وہاں موجود چشم دید میں سے ایک شخص نے بتایا کہ وہ تھوڑی دوری پر بیٹھا تھا، تبھی اچانک تیز آواز کے ساتھ دھماکہ ہوا۔ اس دھماکہ میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، لیکن آس پاس کی عمارتیں کانپ اٹھیں۔ کچھ عمارتوں میں لگے موٹے شیشوں کو ٹوٹ کر نیچے گرتے ہوئے لوگوں نے دیکھا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جائے وقوع پر کچھ دیر تک دھوئیں اور دھول کی وجہ سے کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔


نالاگڑھ کے رکن اسمبلی ہردیپ سنگھ باوا نے اس دھماکہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے سینئر افسران سے لگاتار بات ہو رہی ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہے اور پوری جانچ کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی۔ دھماکہ کی خبر ملنے کے بعد پوری ریاست میں پولیس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور سیاحوں کی سیکورٹی کو توجہ میں رکھتے ہوئے سبھی سیاحتی مقامات پر پولیس کی مستعدی بڑھا دی گئی ہے۔

اس درمیان شملہ میں اپنی رہائش پر میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے کہا کہ نالاگڑھ دھماکہ کو لے کر پولیس محکمہ سے تفصیلی جانکاری طلب کی گئی ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ بدی ونود دھیمان نے دھماکہ کے بارے میں بتایا کہ یہ تقریباً 9.45 بجے صبح ہوا۔ تھانہ کے آئی او روم کے ساتھ جانے والی گلی میں دھماکہ ہوا تھا۔ کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے، لیکن 50 میٹر دور تک دھماکہ کا اثر ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس سی سی ٹی وی کھنگال رہی ہے، لیکن ابھی تک کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا ہے۔


آرمی اسپتال کے میڈیکل افسر ڈاکٹر والد شاہ کا بیان بھی دھماکہ سے متعلق سامنے آیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں ان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ او پی ڈی میں بیٹھے تھے جب دھماکہ ہوا۔ ڈاکٹر والد کے مطابق اچانک دھماکہ کی آواز سنائی دی جس سے پوری زمین ہل گئی۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، جو چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دھماکہ سے اسپتال کی 9 کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔