سنگھو بارڈر پر آج سنیوکت کسان مورچہ کا اجلاس طلب، مستقبل کی حکمت عملی پر فیصلہ متوقع

سنیوکت کسان مورچہ کے عہدیداران آج سنگھو بارڈر پر کسان تحریک کے حوالہ سے مستقبل کی حکمت عملی طے کریں گے، یہ اجلاس صبح 11 بجے منعقد ہونے جا رہا ہے

کسان سنگھو بارڈر، فائل تصویر / یو این آئی
کسان سنگھو بارڈر، فائل تصویر / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: زرعی قوانین کو واپس لینے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان پر پارلیمنٹ کی مہر بھی ثبت ہو چکی ہے اس کے باوجود کسانوں کی تحریک لگاتار جاری ہے۔ کسان اب ایم ایس پی جیسے دیگر مطالبات پر احتجاج کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، سنگھو بارڈر پر سنیوکت کسان مورچہ کا اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔ ’اے بی پی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس صبح 11 بجے منعقد ہوگا اور اس میں کسان مستقبل کی حکمت عملی پر غور و خوض کریں گے۔

کسانوں کے ایم ایس پی گارنٹی قانون بنانے کے مطالبہ پر بھی حکومت نرم پڑ چکی ہے اور حکومت کی جانب سے اس معاملہ پر کمیٹی تشکیل دینے کے لئے غیر رسمی طور پر کسانوں سے پانچ نام طلب کئے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کسان مورچہ کے اجلاس کے دوران یہ پانچ نام طے کئے جا سکے ہیں۔ تاہم سنیوکت کسان مورچہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایم ایس پی پر تحریری طور پر کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔


سنگھو بارڈر پر آج منعقد ہونے جا رہے اجلاس کے دوران کسان اپنے تمام مطالبات اور مرکزی حکومت کے رخ پر تفصیلی بحث کریں گے اور اس کے بعد مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں گے۔ تصور کیا جا رہا ہے کہ آج کے اجلاس کے بعد سنیوکت کسان مورچہ کی جانب سے پریس کانفرنس کے ذریعے اطلاع فراہم کی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ زرعی قوانین کی واپسی اور دیگر مطالبات پر کسان گزشتہ ایک سال سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات قبول نہیں کئے جاتے ان کی تحریک جاری رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔