ملک میں کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ جاری، ایک کسان نے پھر موت کو لگایا گلے

آندھرا پردیش کے شری کاکولم ضلع میں ایک کسان نے قرض سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔ منڈسا گاؤں کے اس کسان نے درخت سے لٹک کر اپنی زندگی کو ختم کر دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مودی حکومت میں کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب آندھرا پردیش کے شری کاکولم ضلع میں ایک کسان نے قرض سے تنگ آ کر خودکشی کر لی ہے۔ شری کاکولم ضلع کے منڈسا گاؤں میں ہوئے حادثہ میں کسان نے درخت سے لٹک کر خودکشی کر لی۔

منڈسا گاؤں کے سب انسپکٹر کے مطابق ’’کسان نے درخت سے لٹک کر خودکشی کر لی ہے۔ کسان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اس نے قرض ادا کرنے میں نااہلی کے سبب خودکشی کی۔‘‘ دوسری طرف کسانوں کی خودکشی پر اسمبلی میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے بتایا ہے کہ ریاست میں 2014 سے 2019 کے درمیان 1513 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔

اس سے قبل کیرالہ کے وائناڈ میں ایک کسان نے خودکشی کر لی تھی۔ قرض سے پریشان کسانوں کے ذریعہ خودکشی سے متفکر کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں یہ ایشو اٹھایا تھا۔ انھوں نے مودی حکومت کے ذریعہ کسانوں کو نظر انداز کرنے کی بات کہی تھی۔

لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ’’پورے ملک میں آج کسان کئی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ میں حکومت کا دھیان کیرالہ میں کسانوں کی بدتر حالت کی طرف کھینچنا چاہتا ہوں۔ مجھے اس ایوان میں یہ بتاتے ہوئے بے حد افسوس ہو رہا ہے کہ بدھ کو وائناڈ میں قرض میں ڈوبے ایک کسان نے خودکشی کی تھی۔ اس کے علاوہ بینکوں کا قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے 8 ہزار کسانوں کو بینکوں کی طرف سے نوٹس بھیجا گیا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’کسانوں کے ذریعہ قرض نہ ادا کرنے کو لے کر بینک کسانوں کو ان کی پراپرٹی کے کاغذ اٹیچ کر انھیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ریاست کے کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں جب سے بینک نے اپنے قرض وصولی کا عمل شروع کیا ہے، تب سے اب تک کیرالہ میں 18 کسان خودکشی کر چکے ہیں۔‘‘