”معراج مسجد اقصیٰ سے عرش الٰہی تک“ کے موضوع پر مولانا آزاد بلگرامی کا تفصیلی خطاب

مولانا بلگرامی نے بتایا کہ سدرة کے معنیٰ ہیں بیری کا درخت اور منتہیٰ کا مطلب آخری کنارہ، بیری کے درخت پر انوارالٰہی اور تجلیات ربانی کا اس قدر ظہور رہتا ہے کہ یہ درخت بے پناہ روشنی سے جگمگاتا رہتا ہے۔

مولانا انیس احمد آزاد قاسمی بلگرامی نقشبندی مجددی
مولانا انیس احمد آزاد قاسمی بلگرامی نقشبندی مجددی
user

محمد تسلیم

نئی دہلی: مشرقی دہلی کی عیدگاہ جعفرآباد ویلکم میں 23ویں پندرہ روزہ اجلاس سیرت مصطفےٰؐ کی پانچویں نشست الحاج محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوئی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد طاہر حسین قاسمی نے انجام دیئے۔ اجلاس کا آغازحافظ زید کی تلاوت اورعبد الکریم کی نعت سے ہوا۔

پندرہ روزہ اجلاس سیرت مصطفےٰؐ کے واحد خطیب معروف عالم دین مفسر قرآن مولانا انیس احمد آزاد قاسمی بلگرامی نقشبندی مجددی نے معراج مسجد اقصیٰ سے عرش الٰہی تک کے موضوع پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں موجود ایک چٹان پر جبریل امین نے حضور کو کھڑا کیا اس چٹان پر آپ کے لیے ایک نہایت خوبصورت سیڑھی ظاہر کی گئی۔ جبریل امین آپ کو لے کر اس سیڑھی پر کھڑے ہوئے اور نہایت برق رفتاری سے آسمان اول پر پہنچے، پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ سے ملاقات ہوئی، دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات ہوئی، تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ سے ملاقات ہوئی، چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ سے ملاقات ہوئی، پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ سے ملاقات ہوئی، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراھیمؑ سے ملاقات ہوئی جبکہ وہ بیت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔


مولانا بلگرامی نے بتایا کہ بیت المعمور فرشتوں کا قبلہ و کعبہ ہے اور روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور نکلنے کے بعد دوبارہ داخلہ کے انتظار میں رہتے ہیں لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ قیامت تو آجائے گی مگر ان کو دوبارہ بیت المعمور میں داخل ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔ پھر نبی سدرة المنتہیٰ تک پہنچے۔

مولانا بلگرامی نے بتایا کہ سدرة کے معنیٰ ہیں بیری کا درخت اور منتہیٰ کا مطلب ہے آخری کنارہ، بیری کے اس درخت پر انوار الٰہی اور تجلیات ربانی کا اس قدر ظہور رہتا ہے کہ یہ درخت بے پناہ روشنی سے جگمگا تا رہتا ہے۔ نبیؐ نے اس درخت کو دیکھا تو بے پناہ روشنی کے باوجود نبی کی آنکھیں ذرہ برابر بھی متاثر نہ ہوئیں مازاغ البصر وما طغیٰ۔ اس سفر میں جبریل امین آپ کے ساتھ یہیں تک رہے۔ پھر آپ کے لیے ایک رفرف یعنی سبز مسند ظاہر کی گئی آپ اس پر تشریف فرما ہوئے اور مقام صریف الاقلام کو عبور کرتے ہوئے عرش الٰہی تک پہنچ گئے اور مقام قاب قوسین پر فائز ہوئے۔ اللہ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ فاوحی الی عبدہ ما اوحیٰ عرش پر آپ کو پچاس نمازوں کا تحفہ دیا گیا جو تخفیف کے بعد پانچ باقی رہیں اور سورة بقرہ کی آخری دو آیات عرش کے مخصوص خزانے سے نکال کر اللہ نے آپ کو عطا کیں۔


پھر آپؐ عرش سے مسجد اقصیٰ میں اسی مقام پر واپس آئے جہاں سے آپ کا عروج ہوا تھا۔ پھر آپؐ اپنی سواری براق سے مکہ مکرمہ آگئے۔ مولانا بلگرامی نے علامہ اقبال کے اس شعر پر اپنی گفتگو ختم کی،

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

اجلاس میں مفتی شکیل احمد، مفتی جنید قاسمی، مفتی محمد زبیر، مفتی قربان علی، ماسٹر سلیم، قاری فیصل، رشید الدین، محمد ارشاد،عبد الوارث، بھائی نعیم، مولاناانیق اختر، مولانا محمد حسان آزاد، حاجی محمد ناصر، حاجی محمد سرور،حاجی یٰسین، شیخ احمد جمیل مدنی، نوشاد خان، عبداللہ کے علاوہ بڑی تعداد میں سامعین نے شرکت کی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔