’جمہوریت کو ختم کرنے کی سازش چل رہی ہے‘، شیوسینا یو بی ٹی نے مرکزی حکومت کو بنایا ہدف تنقید

سامنا میں کہا گیا کہ ’جنتر منتر پر پرامن مظاہروں کے دوران راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی جیسے اپوزیشن رہنماؤں کو گھسیٹا گیا، ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور انہیں زبردستی پولیس کی گاڑیوں میں بٹھایا گیا۔‘

<div class="paragraphs"><p>ادھو ٹھاکرے، ویڈیو گریب</p></div>
i

شیوسینا (یو بی ٹی)  نے ہفتہ کو مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہندوستانی جمہوریت کو اس کے خاتمے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) نے پارٹی کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سیاسی تصادم اور ان کے استعفیٰ کے مطالبے پر اپوزیشن کے وسیع احتجاجی مظاہروں پر تبصرہ کیا۔ اداریے میں کہا گیا کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات کے پس منظر میں کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف چلائی گئی جارحانہ مہم نے حکمراں بی جے پی میں ہلچل مچا دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ’سامنا‘ کے اداریے میں کہا گیا کہ منظم انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حل نکالنے کے بجائے حکمراں طبقہ ہر قیمت پر چیف الیکشن کمشنر کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں کا تحفظ کرنا ’ملک کے ساتھ غداری‘ قرار دیا گیا ہے۔ حالیہ مظاہروں سے نمٹنے کے طریقے کی مذمت کرتے ہوئے اداریے میں انتظامیہ کے دوہرے معیار کی جانب اشارہ کیا گیا۔ اداریے میں الزام عائد کیا گیا کہ ’’جنتر منتر پر پرامن مظاہروں کے دوران راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی جیسے اپوزیشن رہنماؤں کو گھسیٹا گیا، ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور انہیں زبردستی پولیس کی گاڑیوں میں بٹھایا گیا، جبکہ کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر پرتشدد مظاہرہ کرنے والی بی جے پی مہیلا مورچہ کی کارکنوں کو وزارت داخلہ کی جانب سے مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی۔‘‘


شیوسینا (یو بی ٹی) کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول آمریت کی حدوں کو بھی پار کر چکا ہے اور مبینہ طور پر حکمراں انتظامیہ سیاسی جوابدہی کے بجائے جسمانی دھمکیوں کے ذریعے اپوزیشن کے عزم کو توڑنے کے لیے تیار ہے۔ اداریے میں خبردار کیا گیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے متحد ہونے اور ریاستی مشینری و مظاہرین کے درمیان کشیدگی اور تصادم کے عروج پر پہنچنے کے ساتھ، جمہوری ڈھانچوں کے زوال کے خلاف عوامی عدم اطمینان ایک فیصلہ کن حد تک پہنچ چکا ہے۔