مغربی بنگال کے تقریباً 20 لاکھ سرکاری ملازمین کو بڑی راحت، سپریم کورٹ نے زیر التوا مہنگائی بھتہ کی ادائیگی کا دیا حکم

ممتا حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مئی 2022 میں ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ جولائی 2022 سے زیر التوا مہنگائی بھتہ کی ادائیگی 3 ماہ کے اندر کرے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال حکومت اور ریاستی سرکاری ملازمین کے درمیان مہنگائی بھتہ تنازعہ پر سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ریاست کے تقریباً 20 لاکھ ملازمین کو بڑی راحت دی ہے۔ عدالت نے ان ملازمین کو 2008 سے 2019 تک کا بقایا مہنگائی بھتہ دیے جانے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کے پہلے دیے گئے عبوری حکم کے مطابق بقایا ڈی اے کا 25 فیصد حصہ 6 مارچ تک دیا جائے۔ ساتھ ہی بقایا رقم کا بقیہ حصہ قسطوں میں کیسے دیا جائے یہ طے کرنے کے لیے ایک عدالت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں جسٹس ترلوچن سنگھ چوہان، جسٹس گوتم چودھری اور سی اے جی (کیگ) کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ یہ کمیٹی بقایا ڈی اے کی ادائیگی کا طریقہ کار اور شیڈول طے کرے گی۔ یہ کمیٹی طے کرے گی کس طرح سے بقایا ڈی اے دیا جائے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے 16 مئی تک سپریم کورٹ سے رپورٹ طلب کی ہے، آئندہ سماعت بھی اسی روز ہوگی۔


سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلے سے 20 لاکھ سرکاری ملازمین کو فائدہ ہوگا۔ ریاستی حکومت کے مطابق 43 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈی اے ملازمین کا حق ہے۔ واضح رہے کہ ممتا حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے مئی 2022 میں ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ جولائی 2022 سے زیر التوا مہنگائی بھتہ کی ادائیگی 3 ماہ کے اندر کرے۔ اس فیصلے کے خلاف ممتا حکومت کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 16 مئی 2025 کو اپنے عبوری حکم میں ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ ڈی اے کے مجموعی بقایا کا کم از کم 25 فیصد حصہ 3 ماہ میں ملازمین کو ادا کرے۔