وادی کشمیر میں ہڑتال کا 74 واں دن، صورتحال جوں کی توں

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی اور ریاست کو منقسم کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں جمعرات کو مسلسل 74 ویں روز بھی معمولات زندگی متاثر رہی

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

سری نگر: مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں جمعرات کو مسلسل 74 ویں روز بھی معمولات زندگی متاثر رہی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر سری نگر کے جملہ علاقوں کے علاوہ تمام ضلع صدر مقامات و قصبہ جات میں جمعرات کو بھی بازاروں میں دن کے وقت الو بولتے رہے، سرکاری دفاتر میں کام کاج متاثر رہا، تعلیمی اداروں میں طلبا کی حاضری نہ ہونے کے برابر درج کی گئی اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا تاہم پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل حسب سابقہ جاری رہی۔

بتادیں کہ شہرسری نگر و قصبہ جات کے بازار صبح یا شام کے وقت چند گھنٹوں کے لئے کھل جاتے ہیں جس کے باعث صبح اور شام کے وقت وادی کے یمین ویسار کے بازاروں میں گہماگہمی اور چہل پہل رہتی ہے اور لوگوں کو مختلف اشیائے ضروریہ کی جم کر خریداری کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ ادھر انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی اداروں کو کھولنے کے اعلانات کے باوجود تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل بحال ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے کیونکہ تعلیمی اداروں میں عملہ تو موجود رہتا ہے لیکن طلبا گھروں میں بیٹھنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

وادی کشمیر میں ہڑتال کا 74 واں دن، صورتحال جوں کی توں

تاہم جموں کشمیر اسٹیٹ بورڑ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف دسویں اور بارہویں جماعت کے لئے ڈیٹ شیٹ جاری کرنے کے پیش نظر اسکولوں میں طلبا کا رش بڑھ گیا ہے۔ ایک استاد نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے یو این آئی اردو کو بتایا کہ طلبا امتحانی فارم اور اس سے متعلق دیگر امور کی انجام دہی اور امتحان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے اسکول آتے ہیں جس کی وجہ سے اسکولوں میں طلبا کے آنے کا رش بڑھ گیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ حالات کے بیچ بچوں کو اسکول یا کالج بھیجنے میں مختلف النوع خطرات محسوس کر رہے ہیں۔

دریں اثنا جمعرات کے روز بھی وادی بھر میں غیر اعلانیہ ہڑتال کی وجہ سے جوں کی توں صورتحال سایہ فگن رہنے سے معمولات زندگی متاثر رہی۔ سری نگر کے تمام علاقوں بشمول تجارتی مرکز لال چوک میں بھی دن بھر ہو کا عالم چھایا رہا اگرچہ کئی ایک ریڑہ بانوں نے بر لب سڑک ریڑے لگائے تھے لیکن دکان برابر مقفل رہے۔

وادی کے جنوب وشمال کے اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال رہی بازار بطور کلی بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور بند رہا تاہم نجی ٹرانسپورٹ وادی بھر میں جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق وادی کی بعض سڑکوں پر دن میں ایس آر ٹی سی گاڑیوں کی جزوی نقل وحمل بھی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کی بعض سڑکوں پر نجی گاڑیوں کے ساتھ اکا دکا ایس آر ٹی سی کی گاڑیوں کو بھی چلتے ہوئے دیکھا گیا۔

وادی کشمیر میں ہڑتال کا 74 واں دن، صورتحال جوں کی توں

ادھر وادی میں مواصلاتی ذرائع پر جاری پابندی میں بتدریج تخفیف لائی جا رہی ہے، پہلے لینڈ لائن سروس کو بحال کیا گیا بعد ازاں پیر کے روز پوسٹ پیڈ موبائیل سروس کو بھی بحال کیا گیا تاہم براڈ بینڈ اور موبائل انٹرنیٹ خدمات گزشتہ قریب ڈھائی ماہ سے مسلسل معطل ہیں جو مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے سوہان روح بن گئے ہیں۔ صحافیوں اور طلبا کو انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے ساتھ ساتھ قومی دھارے ور حریت کے درجنوں چھوٹے بڑے قائدین بھی لگاتار خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔ ریاست کے تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی حراست میں ہیں جبکہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور تین بار وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہنے اور دو بار رکن پالیمان کا اعزاز حاصل کرنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پی ایس اے کے تحت اپنی رہائش گاہ پر محصور ہیں۔

Published: 17 Oct 2019, 6:04 PM