روی داس مندر توڑنے کے خلاف بھڑکا تشدد ، بھیم آرمی کے چندرشیکھر آزاد گرفتار

دہلی میں روی داس مندر توڑے جانے کے خلاف پر تشدد مظاہرے ہوئے جس میں 70 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جنوب مشرقی دہلی کے تغلق آباد اور اس کے آس پاس کے کئی علاقوں میں بدھ کی شام کو تشدد بھڑک گیا اور ذرائع کے مطابق یہ تشدد وہاں سنت روی داس مندر کو توڑے جانے کے خلاف بھڑکا ۔ اس دوران مظاہرین نے زبردست توڑ پھوڑ کی اور کئی جگہ آگ لگا دی۔تشدد پر قابو پانے کے لئے پولس نے کئی جگہ پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج بھی کیا اور تشدد کے دوران کئی پولس والے بھی زخمی بھی ہو گئے ۔

پولس نے بھیم آرمی سمیت کئی تنظیموں کے کارکنان کو گرفتار کیا جس میں بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد عرف راون بھی شامل ہیں ۔واضح رہے یہ مظاہرے جنوبی دہلی میں سنت روی داس کے مندر کو عدالت کے احکام پر ڈی ڈی اے کے ذریعہ توڑے جانے کے خلاف ہوئےہیں جنوب مشرقی دہلی کے ڈی سی پی چنمے بسوال نے تصدیق کی کہ مظاہرین کے ساتھ بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بھیم آرمی کے سربراہ سمیت دیگر تنظیموں کے 70 افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان سے پوچھ تاچھ کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس تشدد میں کئی پولس اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق کل کے پر تشدد مظاہرہ میں سو سے زیادہ گاڑیوں کو مظاہرین نے اپنے غصہ کا نشانہ بنایا ۔ ان گاڑیوں میں زیادہ تر پولس کی گاڑیاں شامل تھیں ۔ مظاہرین نے دو موٹر سائکلوں کو بھی آگ لگا دی ۔پولس نے مظاہرین کو قابو پانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ۔

Published: 22 Aug 2019, 8:00 AM