تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے 7 افراد گرفتار

گرفتار ساتوں افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کے تحت کیس درج کیا گیا ہے اور ان سات کے علاوہ بھی تین لوگوں پر کیس درج ہوا ہے لیکن فی الحال ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں کورونا وائرس کی دہشت کے درمیان نظام الدین واقع تبلیغی جماعت مرکز کو غلط طریقے سے لوگ ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر تو تبلیغی جماعت کے خلاف نفرت انگیز مہم کا جیسے سیلاب آ چکا ہے۔ اسی سلسلے میں گجرات پولس نے سات لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ سبھی نہ صرف تبلیغی جماعت کے خلاف نفرت پھیلا رہے تھے بلکہ لوگوں سے یہ اپیل بھی کر رہے تھے کہ وہ اقلیتی طبقہ (مسلمانوں) کا بائیکاٹ کریں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کے تحت کیس درج کیا گیا ہے اور ان ساتوں کے علاوہ بھی تین لوگوں پر کیس درج ہوا ہے لیکن فی الحال ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتار سات افراد گجرات کے نوساری، جام نگر، امریلی، آنند اور کَچھ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولس کے مطابق گرفتار اشخاص کے نام ریکین سنگھو (27 سال)، اوماکانت راٹھوڑ (50 سال)، رتی لال پٹیل (70 سال)، پرس والا (39 سال)، جینتی گری (51 سال)، نیرو بارواڈی (30 سال) اور ہریش (42) ہیں۔

ریکین سنگھو کا تعلق امریلی سے ہے اور وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے۔ اس کے بارے میں امریلی کے پولس سپرنٹنڈنت نیرلپت رائے کا کہنا ہے کہ "ملزم عوام کو گمراہ کرنے کے لیے تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ بھی لگا ہے۔" نوساری کے رہنے والے اوما کانت راٹھوڑ اور رتی لال پٹیل کے بارے میں پولس کا کہنا ہے کہ دونوں نے مختلف وہاٹس ایپ گروپ پر نفرت انگیز پیغامات شیئر کیے تھے۔ نوساری کے ڈپٹی پولس سپرنٹنڈنٹ ایس جی رانا نے بتایا کہ "اوما کانت ہیرا تراشنے کا کام کرتا ہے جب کہ رتی لال بے روزگار ہے۔ دونوں کو بروز جمعہ ضمانت پر چھوڑا گیا ہے۔"

دیگر گرفتار اشخاص میں پرس والا ڈرائیور ہے جب کہ جینتی گری ایک بزنس مین ہے۔ ان دونوں کا تعلق جام نگر سے ہے۔ آنند کا رہنے والا نیرو برواڈی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہے اور ہریش کَچھ کا رہائشی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جمعرات کو ہی احمد آباد پولس کی اسپیشل برانچ نے ایک خط شہر کے سبھی پولس اسٹیشن کو لکھا تھا جس میں تبلیغی جماعت سے متعلق وہاٹس ایپ پر گشت کر رہے نفرت بھرے پیغامات پر کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ پولس سے کہا گیا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے ہر طرح کے ضروری اقدامات کیے جائیں۔