’متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کا فیصلہ پہلے کر لیتے تو 666 کسانوں کی موت نہیں ہوتی‘

سنیُکت کسان منچ کے کنوینر ہریش چوہان اور شریک کنوینر سنجے چوہان نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ حکومت کی ایک بڑی غلطی ہے۔

کسان تحریک / تصویر یو این آئی
کسان تحریک / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

شملہ: ہماچل پردیش میں کسانوں اور باغبانوں کے مفادات کی لڑائی لڑنے والے سنیُکت کسان منچ نے تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے مرکز کے فیصلے پر کہا کہ اگر یہ فیصلہ پہلے کیا جاتا تو 666 کسانوں کی موت نہ ہوتی۔ منچ کے کنوینر ہریش چوہان اور شریک کنوینر سنجے چوہان نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ حکومت کی ایک بڑی غلطی ہے۔

چوہان برادران نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ تحریک کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے بی جے پی حکومت کا کسان مخالف چہرہ واضح ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت کو کسانوں کے مطالبات کے سامنے جھکنا پڑا ہے اور وہ ان کسان اور عوام مخالف تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کے دباؤ میں حکومت کی طرف سے زرعی قوانین کو واپس لینے سے ان نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف چلائی جانے والی دیگر تحریکوں کو بھی تقویت ملے گی جو کارپوریٹ گھرانوں کے فائدے کے لیے ملک میں نافذ کی جا رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔