66 سابق افسر شاہوں کا صدر کو مکتوب، الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر اٹھائے سوال

عام انتخابات کے پہلے مرحلہ کی تشہیرکاری عروج پر ہے اور مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی جاری ہے، دریں اثنا 66 سابق افسرشاہوں نے صدر کو مکتوب پیش کر کے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلہ کی پولنگ 11 اپریل کو ہے، اس سے قبل 66 سابق افسرشاہوں نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے صدر رام ناتھ کووند کو ایک خط ارسال کیا ہے۔ سابق افسرشاہوں نے اپنے خط میں مثالی ضابطہ اخلاق کی عمل آوری کے تئیں الیکشن کمیشن کے کردار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط ارسال کرنے والے سابق افسر شاہوں میں سابق خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن، دہلی سے سابق ایل جی نجیب جنگ، پنجاب کے سابق ڈی جی پی جولیو ریبیرو، پرسار بھارتی کے سابق سی ای او جواہر سرکار اور ٹرائی کے سابق چیئرمین راجیو کھلر وغیرہ شامل ہیں۔

سابق افسرشاہوں نے اپنے خط میں ملک میں نافذ مثالی ضابطہ اخلاق کی عمل آوری کے تئیں الیکشن کمیشن کے کردار کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ افسرشاہوں نے اپنی شکایت میں مشن شکتی کے دوران اینٹی سٹیلائٹ کے کامیاب تجربہ کے بعد وزیر اعظم مودی کے قوم سے خطاب پر سوال اٹھائے ہیں۔ اتنا ہی نہیں اس خط میں نریندر مودی پر بنی بایو پک، نمو ٹی وی، ویب سیریز اور بی جے پی کے کئی رہنماؤں کی قابل اعتراض تقاریر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

خط میں سابق افسر شاہوں نے لکھا کہ مثالی ضابطہ اخلاق کی سرعام خلاف ورزی ہو رہی ہے، جس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے صرف دکھانے کے لئے کارروائی کی ہے، جبکہ موجودہ مودی حکومت کے رہنما اپنے مرتبہ کا خود ساختہ طور پر استعمال کر رہے ہیں اور مثالی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑ رہی ہے۔ ان کے اس رویہ سے صاف ہے کہ الیکشن کمیشن کے تئیں بھی مودی حکومت میں کوئے احترام نہیں ہے۔

صدر کے نام خط ارسال کرنے سے قبل سابق افسر شاہ الیکشن کمیشن کو بھی خط لکھ چکے ہیں۔ کمیشن نے بھی اس خط کے جواب میں مثالی ضابطہ اخلاقت کی خلاف ورزی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس خط میں انہوں نے مودی کی بایو پک (فلم) سمیت کئی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، اب یہی شکات انہوں صدر رام ناتھ کووند سے کر دی ہے۔