اسکول میں دلت خاتون کو کھانا بنانے سے روکنے پر 6 لوگوں کو 2 سال کی جیل، ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائی
جوڈیشل مجسٹریٹ ایم سریش نے کہا کہ ’’6 لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے 2 سال کی جیل کے علاوہ ہر ایک پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ عدم ثبوت کی بنا پر 25 افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔‘‘

تمل ناڈو کی ایک عدالت نے دلت طبقہ کی ایک خاتون کو سرکاری اسکول میں بچوں کے لیے کھانا بنانے سے روکنے کے معاملے میں 6 لوگوں کو 2 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ 2018 کا ہے۔ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ کی سماعت کر رہی خصوصی عدالت نے پی پالانیسمی گونڈر، این شکتیویل، آر شانموگم، سی ویلنگیری، اے دوریسامی اور وی سیتا لکشمی کو ذات پات کی تفریق اور دیگر جرائم کے لیے سزا سنائی ہے۔
استغاثہ کے مطابق ضلع کے تھروملائی گونڈمپلائم کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں خاتون باورچی پی پپل (44) کو 6 لوگوں کے ذریعہ ذات پر مبنی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ تمام لوگ اسکول میں زیر تعلیم بچے کے سرپرست تھے۔ سرپستوں نے بچوں کے لیے دلت خاتون کے کھانا بنانے پر اعتراض کیا تھا۔ ’تمل ناڈو اچھوت مٹاؤ محاذ‘ کے ارکان نے دلت خاتون باورچی کے ساتھ ہوئے امتیازی سلوک اور تبادلہ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ متاثرہ خاتون پی پپل نے ایک شکایت درج کرائی تھی۔ چیور پولیس نے 35 لوگوں کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان میں سے 8 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ ایم سریش نے کہا کہ 6 لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور ہر ایک پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ عدم ثبوت کی بنا پر 25 افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مقدمے کی سماعت کے دوران ہی 4 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ سزا یافتہ تمام ملزمان کو کوئمبٹور سنٹرل جیل بھیج دیا گیا ہے۔