57 کسانوں کی ہو چکی موت، سینکڑوں بیمار، پھر بھی مودی حکومت بے حس: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’مہینے بھر سے اپنے جائز مطالبات کے لیے بیٹھے کسانوں کی باتیں نہ مان کر حکومت حد درجے کی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘‘

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی جاری تحریک کے درمیان ہو رہی اموات کے پیش نظر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’سرد موسم میں دہلی بارڈر پر بیٹھے کسان بھائیوں کی موت کی خبریں پریشان کرنے والی ہیں۔ میڈیا خبروں کے مطابق ابھی تک 57 کسانوں کی جان جا چکی ہے اور سینکڑوں بیمار ہیں۔ مہینے بھر سے اپنے جائز مطالبات کے لیے بیٹھے کسانوں کی باتیں نہ مان کر حکومت حد درجے کی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘‘

دراصل یکم جنوری کو دہلی بارڈر پر مظاہرہ کے دوران گلتان سنگھ کی موت ہو گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ سرد موسم کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوئی تھی، پھر آج کشمیر سنگھ نامی کسان نے زرعی قوانین کے خلاف خودکشی جیسا قدم اٹھایا۔ اس طرح کے واقعات سے مودی حکومت کو چاروں طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پرینکا گاندھی نے بھی کئی بار کسانوں کے حق میں آواز بلند کی ہے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاہ قوانین کو واپس کرنے سے متعلق کسانوں کا مطالبہ پورا کیا جائے۔

واضح رہے کہ اس وقت سبھی کی نظریں 4 جنوری کو کسان لیڈران اور حکومت کے درمیان ہونے والی میٹنگ پر مرکوز ہے۔ کسان تنظیموں کے سربراہان نے واضح کر دیا ہے کہ اگر پیر کے روز زرعی قوانین کے واپسی اور ایم ایس پی پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا گیا تو مظاہرہ میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ اس درمیان مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ 4 جنوری کی میٹنگ کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next