2020 میں دنیا کو الوداع کہنے والی بالی ووڈ کی 5 اہم ہستیاں

ہندی فلم انڈسٹری سے جڑی کئی ہستیوں نے 2020 میں آخری سانس لی اور اپنے چاہنے والوں کو غم میں ڈبا دیا۔ پیش ہے بالی ووڈ سے جڑی ان 5 اہم ہستیوں کی مختصر تعریف جنھیں عرصۂ دراز تک بھلایا نہیں جا سکتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

2021 کی آمد ہو چکی ہے، لیکن 2020 نے جو غم دیے ہیں اس کی کسک جاتے جاتے ہی جائے گی۔ کورونا وبا نے 2020 کو بری طرح متاثر کیا اور لاکھوں افراد اس وائرس کی زد میں آ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس وبا کا شکار کئی اہم ہستیاں بھی ہوئیں، لیکن اموات کو کئی دیگر وجوہات کی سبب بھی ہوئیں۔ کئی اموات قدرتی طور پر ہوئیں، تو خودکشی کے بھی کئی واقعات 2020 میں پیش آئے۔ بالی ووڈ بھی اس طرح کی اموات سے اچھوتا نہیں رہا۔ ہندی فلم انڈسٹری سے جڑی کئی ہستیوں نے 2020 میں آخری سانس لی اور اپنے چاہنے والوں کو غم میں ڈبا دیا۔ ہم ’قومی آواز‘ کے قارئین کو بالی ووڈ سے جڑی ان 5 اہم ہستیوں کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جنھیں عرصۂ دراز تک بھلایا نہیں جا سکتا۔

جگدیپ (2020-1939)

جگدیپ کا انتقال 8 جولائی 2020 کو ہوا، اور ان کا اس دنیا سے جانا بالی ووڈ میں ایک دور کا خاتمہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ 50 کی دہائی سے لے کر 2020 تک انھوں نے اپنے مزاحیہ انداز سے نہ صرف لوگوں کو دیوانہ بنایا، بلکہ بالی ووڈ میں مزاحیہ کردار کو ایک وقار بھی بخشا۔ 29 مارچ 1939 کو پیدا ہوئے جگدیپ کا اصل نام سید اشتیاق احمد تھا اور انھوں نے کم و بیش 400 فلموں میں اداکاری کی۔


سروج خان (2020-1948)

بالی ووڈ کی تقریباً سبھی اداکاروں کو ڈانس سکھانے والی مشہور و معروف کوریوگرافر سروج خان نے 3 جولائی 2020 کو آخری سانس لی۔ 71 سالہ سروج خان نے کم و بیش 3 ہزار فلموں کے لیے کوریوگرافی کی اور شری دیوی، مادھوری دیکشت، منیشا کوئرالہ سمیت متعدد اداکاروں کو کامیابی کی دہلیز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 22 نومبر 1948 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں سروج خان کا اصل نام نرملا ناگپال تھا، لیکن 13 سال کی عمر میں ہی انھوں نے اسلام مذہب قبول کر لیا تھا۔

رشی کپور (2020-1952)

رشی کپور کا اس دنیا سے جانا بالی ووڈ میں ایک خلاء پیدا کر گیا، کیونکہ وہ اپنے طریقے کے بالکل مختلف اداکار تھے۔ 4 ستمبر 1952 کو چیمبور میں پیدا ہوئے رشی کپور کو ایک مضبوط فلمی بیک گراؤنڈ ضرور ملا، لیکن انھوں نے اپنی صلاحیت کے دم پر بالی ووڈ میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ فلم ’بابی‘ سے جو سفر انھوں نے شروع کیا تھا، وہ ’نصیب‘، ’حنا‘، ’چاندنی‘، ’دیوانہ‘ ہوتے ہوئے ’دی باڈی‘ پر ختم ہو گئی۔ حالانکہ اس سفر کو ابھی ختم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ 30 اپریل 2020 کو جب ان کا انتقال ہوا تو وہ فلم ’شرما جی نمکین‘ کے بیشتر حصے کی شوٹنگ کر چکے تھے اور ہدایت کار ہنی تریہان نے اعلان کیا ہے کہ فلم تھیٹر میں ریلیز کی جائے گی۔


عرفان خان (2020-1967)

29 اپریل 2020 کو عرفان خان کے انتقال کی خبر نے بالی ووڈ کو زبردست صدمے میں دھکیل دیا تھا۔ ایسے وقت میں جب کورونا وبا نے لوگوں کو گھروں میں بند کر رکھا تھا، کینسر میں مبتلا عرفان خان کے انتقال نے ایک زبردست دھچکا بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ فلم شیدائیوں کو بھی پہنچایا۔ 53 سال کی زندگی پانے والے عرفان خان نے تقریباً 30 فلموں میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھایا اور کم وقت میں ہی انھوں نے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ ان کی بہترین فلموں میں ’مقبول‘، ’دی نیم سیک‘، ’سلم ڈاگ ملینیر‘، ’لائف آف دی پائی‘ وغیرہ کار شمار ہوتا ہے۔

سوشانت سنگھ راجپوت (2020-1986)

سال 2020 میں سب سے زیادہ حیران کرنے والی موت سوشانت سنگھ کی رہی۔ محض 34 سال کی عمر میں انھوں نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی، اور اس واقعہ کا اثر ایسا ہوا کہ ملک کے کچھ علاقوں میں غمزدہ سوشانت کے شیدائیوں نے بھی خودکشی کر لی۔ ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ سوشانت سنگھ کی خودکشی کی وجہ کیا تھی۔ کبھی ایسی خبریں سامنے آتی ہیں کہ وہ ڈپریشن کے شکار تھے، اور کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ بالی ووڈ کی سازش کا شکار ہو گئے۔ سچائی جو بھی ہو، لیکن ایک ابھرتا ہوا سورج اچانک 2020 میں غروب ہو گیا۔ محض 7 سالوں کے فلمی سفر میں سوشانت سنگھ راجپوت نے ’کائے پوچھے‘، ’پی کے‘، ’ایم ایس دھونی: دی اَن ٹولڈ اسٹوری‘، ’چھچھورے‘ اور ’دل بے چارہ‘ جیسی یادگار فلمیں دیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔