کیا مسجد کے لیے 5 ایکڑ زمین متنازع مقام سے 4 کلو میٹر دور واقع گاؤں میں دی جائے گی!

ایودھیا معاملہ میں سپریم کورٹ نے مسلم فریق کو مسجد بنانے کے لیے متبادل جگہ پر 5 ایکڑ زمین دینے کی ہدایت دی ہے۔ خبروں کے مطابق یہ زمین متنازعہ اراضی سے 4 کلو میٹر دور سہنوا گاؤں میں دی جا سکتی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

میڈیا ذرائع کی باتوں پر یقین کریں تو ایودھیا معاملہ میں آئے فیصلے کے پیش نظر مسلم فریق کو 5 ایکڑ زمین ایودھیا نگری کے باہر سہنوا نامی گاؤں میں دیئے جانے کا امکان ہے۔ نیوز 18 انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سہنوا گاؤں میں ہی بابر کے سپہ سالار میر باقی کی قبر ہے اور ان کی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہیں رہتے ہیں۔ میر باقی نے ہی بابری مسجد تعمیر کرائی تھی۔

نیوز 18 انڈیا نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ میر باقی کی نسل کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ سہنوا میں مسجد بنے۔ سہنوا فی الحال ایودھیا نگر نگم میں شامل نہیں ہے اور رام جنم بھومی سے تقریباً تین سے چار کلو میٹر دور ہے۔ حالانکہ امکان ہے کہ جلد ہی سہنوا سمیت دیگر 40 گاؤوں کو ایودھیا نگر نگم میں شامل کیے جانے کی منظوری مل سکتی ہے۔

ویسے 2017 میں سہنوا کو ایودھیا نگر نگم میں شامل کیے جانے کی تجویز حکومت کو بھیجی جا چکی ہے۔ سہنوا کے علاوہ چاند پور ہرونش اور ڈابھا سینبھر گاؤوں کے نام پر بھی مسجد کے لیے جگہ دیئے جانے کا تذکرہ زوروں پر ہے۔

غور طلب ہے کہ بابری مسجد کے لیے متبادل جگہ کی شکل میں سہنوا گاؤں کا نام 1990 کی دہائی سے ہی کبھی کبھی سامنے آتا رہا ہے۔ بابری مسجد گرائے جانے سے پہلے ہی اس گاؤں کو لے کر خبریں زوروں پر تھیں اور سنا گیا تھا کہ حکومت سہنوا گاؤں کی 40 ایکڑ زمین ایکوائر کرے گی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ خفیہ محکمہ اور مرکزی افسروں کی ایک ٹیم نے جگہ کا معائنہ بھی کیا تھا۔ فیض آباد کی ضلع انتظامیہ نے زمین کی پیمائش کر اسے نشان زد بھی کر لیا تھا۔ تب کی خبروں کے مطابق ریکارڈ میں یہ زمین میر باقی کی فیملی کے نام درج ہے۔

دھیان رہے کہ 9 نومبر کو ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے متنازعہ زمین پر مندر بنانے کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی مسجد کے لیے الگ سے 5 ایکڑ زمین متبادل جگہ پر دیئے جانے کا بھی حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں بابری مسجد توڑے جانے کے واقعہ کو غیر قانونی ٹھہرایا ہے اور اسے جرم مانا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں حکومت کو مندر کے لیے ٹرسٹ بنانے اور مسجد کے لیے زمین مہیا کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ لیکن ایودھیا معاملے کے عرضی دہندہ اقبال انصاری نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی تک ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی تجویز نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواہش کے مطابق اگر زمین ملے گی تو وہ ضرور لیں گے۔

Published: 12 Nov 2019, 1:33 PM