چار جج جنھوں نے چیف جسٹس کو کٹہرے میں کھڑا کیا

سپریم کورٹ کے سینئر جج جے چیلامیشور، رنجن گوگوئی، مدن لوکُر، کورین جوسف

سپریم کورٹ کے 4 ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے طریقۂ کارپر سوال کھڑا کر دیا ہے اور جج لویا کی موت سے متعلق معاملے میں چیف جسٹس کے رویے کو غلط ٹھہرایا ہے۔ آئیے جانتے ہیں ان چار ججوں کے بارے میں۔

1. جسٹس جے چیلامیشور:

جسٹس جے چیلامیشور سپریم کورٹ کے دوسرے سب سے سینئر جج ہیں اور سینئریٹی میں چیف جسٹس کے بعد ان کا نمبر آتا ہے۔ جسٹس چیلامیشور کی پیدائش 23 جون 1953 کو آندھرا پردیش کے کرشنا ضلع میں ہوئی۔ انھوں نے مدراس لوئلہ کالج سے فزکس میں گریجویشن کیا اور وشاکھاپٹنم کے آندھرا یونیورسٹی سے قانون کی پڑھائی کی۔ چیلامیشور آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج اور 2007 میں گواہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ اس کے بعد وہ کیرالہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ اکتوبر 2011 میں وہ سپریم کورٹ کے جج بجے۔

جسٹس چیلامیشور کی شہرت کی وجہ:

جسٹس چیلامیشور نے گزشتہ سال مئی میں سپریم کورٹ میں وائی فائی سہولت نہ ہونے پر سوال کھڑا کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جے چیلامیشور اور فالی ایس نریمن کی دو ججوں کی بنچ نے اس قانون کو منسوخ کیا تھا جس کے تحت پولس کو کسی بھی ایسے شخص کو گرفتار کرنے کا حق تھا جس نے کسی کو کوئی قابل اعتراض میل کیا ہو یا کوئی الیکٹرانک پیغام دیا ہو۔ اس کے علاوہ ’آدھار‘ سے متعلق نجی جانکاری کے معاملے کی سماعت کرنے والی بنچ میں بھی جسٹس چیلامیشور تھے۔

2. جسٹس رنجن گوگوئی:

جسٹس رنجن گوگوئی 2012 سے سپریم کورٹ میں جج ہیں۔ اس کے پہلے وہ پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ جسٹس گوگوئی گواہایٹی ہائی کورٹ میں بھی رہ چکے ہیں۔

جسٹس گوگوئی کی شہرت کی وجہ:

جسٹس گوگوئی سات ججوں کی اس بنچ میں شامل تھے جس نے کولکاتا ہائی کورٹ کے جسٹس سی ایس کرنن کو سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ جسٹس گوگوئی نے ہی سرکاری اشتہاروں میں گورنر، مرکزی وزراء، وزرائے اعلیٰ اور ریاستی وزراء کی تصویر کے استعمال پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے اس کی اجازت دی تھی۔

3. جسٹس مدن لوکُر:

1977 میں بطور ایک وکیل اپنا لاء کیریر شروع کرنے والے جسٹس مدن بھیم راؤ لوکُر نے سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ میں کئی سالوں تک وکالت کی۔ وہ فروری 2010 سے مئی تک دہلی ہائی کورٹ میں کارگزار چیف جسٹس رہے۔ 2010 کے جون میں ہی وہ گواہاٹی ہائی کورٹ اور بعد میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔

جسٹس مدن لوکُر کی شہرت کی وجہ:

جسٹس مدن لوکُر نے بہار کی ایک ایسی خاتون کو پنشن دینے کا حکم جاری کیا تھا جو بغیر طلاق لیے اپنے شوہر سے الگ رہ رہی تھی۔ اس کے علاوہ جسٹس لوکُر نے ہی کھلی جیل کا فارمولہ اپنانے کے لیے وزارت داخلہ کو میٹنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ کھلی جیل بنانے سے جیل میں زیادہ قیدیوں کی پریشانی سے نجات ملے گی اور قیدیوں کو سماج کے اصل دھارے میں لوٹنے کا موقع ملے گا۔

4. جسٹس کورین جوسف:

جسٹس جوسف نے 1979 میں اپنا قانونی کیریر شروع کیا۔ سال 2000 میں انھیں کیرالہ ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔ 2010 میں وہ ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 8 مارچ 2013 کو سپریم کورٹ کے جج بنے۔

جسٹس جوسف کے شہرت کی وجہ:

جسٹس جوسف سپریم کورٹ کی 5 ججوں کی اس بنچ میں شامل تھے جس نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ جسٹس جوسف نے ہی گڈ فرائیڈے پر ایک سرکاری کانفرنس رکھنے پر ناراضگی بھی ظاہر کی تھی۔ انھوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ گڈ فرائیڈے کی وجہ سے فیملی کے ساتھ کیرالہ میں ہیں اور اس موقع پر ہونے والے ڈنر میں نہیں آ پائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ دیوالی، دسہرا، ہولی، عید، بقرعید جیسے مبارک موقع پر ایسا کانفرنس کیوں نہیں ہوتا۔

سب سے زیادہ مقبول