دہلی: پولنگ سے 4 دن قبل ترلوک پوری میں ملی 2 مُردہ گائیں، ماحول کشیدہ

ایک ڈیری مالک نے اپنی کئی گایوں کو سنجے جھیل پارک میں چھوڑ رکھا تھا، لیکن جب وہ بدھ کی صبح اٹھا اور دودھ نکالنے کے لیے گیا تو اسے دو گائیں مردہ حالت میں ملیں۔ اس واقعہ کی خبر اس نے فوراً پولس کو دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مشرقی دہلی کا ترلوک پوری علاقہ اکثر فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار رہا ہے اور ایک بار پھر یہاں کے ماحول میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دراصل بدھ کے روز دو گائے ترلوک پوری کے ایک پارک میں مردہ حالت میں پائی گئی جس کے بعد اس حساس علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اس کشیدگی کے پیش نظر پولس نے سیکورٹی کے انتظامات بڑھا دیے ہیں۔ ایک سینئر پولس افسر نے اس تعلق سے بتایا کہ ایک ڈیری مالک نے صبح تقریباً 6 بجے پولس کو واقعہ کی جانکاری دی اور کہا کہ اس کی دو گائے کوٹلہ گاؤں کے پیچھے سنجے جھیل پارک میں مردہ ملیں۔

خبروں کے مطابق جگہ کی کمی کے سبب ڈیری کا مالک اپنی گایوں کو پارک میں چھوڑ دیتا تھا۔ ڈیری مالک جب صبح گایوں کا دودھ نکالنے وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ان میں سے دو گائے غائب تھیں۔ افسر نے بتایا کہ اسے دونوں گائے پارک میں مردہ حالت میں ملیں جس کے بعد اس نے پولس کو اس کی جانکاری دی۔ خبر ملتے ہی پولس موقع پر پہنچی اور اس بات کو درست پایا کہ دو گایوں کو مبینہ طور پر مار دیا گیا جب کہ دیگر گائیں صحیح سلامت تھیں۔ بعد ازاں پولس نے جانوروں پر ظلم روک تھام ایکٹ اور تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت نامعلوم لوگں کے خلاف معاملہ درج کر لیا۔

پولس افسر کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ طور پر حساس اس علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ پولس نے یہ بھی بتایا کہ علاقے میں کوئی سی سی ٹی وی لگا ہوا نہیں ہے اس لیے قصوروار کے بارے میں فوری طور پر کچھ پتہ نہیں لگ سکا ہے۔ پولس محکمہ اس واقعہ کی جانچ میں مقامی خفیہ نظام کا استعمال کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آخر انتخابی ماحول میں اس طرح کی حرکت کس نے کی۔

اس واقعہ کی خبر ملنے کے بعد دہلی اقلیتی کمیشن (ڈی ایم سی) کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دہلی پولس کمشنر کو ایک خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ سماج دشمن عناصر 12 مئی کو ووٹنگ سے قبل اس واقعہ کا استعمال کشیدگی پیدا کرنے کے لیے کر سکتے ہیں، اس لیے مناسب اقدام کیے جائیں۔ ظفرالاسلام خان نے پولس سے علاقے میں امن کا ماحول یقینی بنانے اور واقعہ میں شامل لوگوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعہ کے تعلق سے کچھ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ صبح 6 بجے کچھ لوگوں نے سنجے جھیل پارک میں دیکھا کہ گایوں کو دو لوگ کاٹ رہے ہیں۔ جب مقامی لوگوں نے اس پر ہنگامہ مچانا شروع کر دیا تو وہ دونوں شخص وہاں سے فرار ہو گئے۔ چونکہ مقامی لوگوں نے گائے کاٹنے والوں کو دور سے دیکھا تھا اس لیے پہچان نہیں سکے۔ اس کے بعد سنجے جھیل پارک کے پاس ماحول میں جو کشیدگی پیدا ہوئی، وہ ترلوک پوری اور اس کے قریب کے علاقوں یعنی کلیان پوری اور کوٹلہ گاؤں میں بھی پھیل گئی۔ لوگوں میں ایک خوف کا عالم اب بھی قائم ہے، لیکن پولس سیکورٹی سخت ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں میں اطمینان دیکھنے کو مل رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 May 2019, 10:10 AM