شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تاریخی ’پلاسی کا میدان‘ بھی سراپا احتجاج

1757 کی جنگ کا گواہ بننے والا ’پلاسی کا میدان‘ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کا بھی گواہ بن رہا ہے۔ یہاں یوم جمہوریہ پر دھرنا شروع ہوا اور تیسرے دن ہزاروں کی تعداد وہاں موجود ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کولکاتا: ’پلاسی کا تاریخی میدان‘ شہریت ترمیمی ایکٹ، این آر سی اور این آرپی کے خلاف جدو جہد اور احتجاج کے لئے سج گیا ہے۔یوم جمہوریہ کے موقع پر سیکڑوں افراد نے ہندوستان کے دستور کے تحفظ اور ملک کے سیکولر روایات کی حفاظت کے عزم کے ساتھ احتجاج شروع کیا ہے۔ نیتاجی سبھاش منچ کے زیراہتمام ندیا ضلع میں واقع پلاسی کے میدان میں 2ہزار مردو خواتین کل یعنی یوم جمہوریہ کے موقع پر احتجاج شروع کیا ہے اور اس کی خبر پھیلتے ہی آس پاس کے گاؤں اور علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

263سال قبل پلاسی کا یہ میدان بنگال کے آخری حکمراں نواب سراج الدولہ اور برطانوی فوج کے درمیان جنگ کا گواہ بناتھا۔پلاسی کی یہ جنگ جنوبی ایشا کی تاریخ کو ہی نہیں متاثر کیا بلکہ ہندوستان میں برطانوی استعماریت کی راہ ہموار کردی۔ دراصل اس وقت نیشنل ہائی وے 12کے پھول بگان میں یہ احتجاج ہورہا ہے جب کہ 1857میں پلاسی کے میدان میں جو جنگ ہوئی تھی وہ موقع احتجاج سے پانچ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔مگر ملحق ہونے کی وجہ سے اس علاقے کو بھی پلاسی کا میدان ہی کہا جاتا ہے۔

احتجاج میں شامل سماجی کارکن محی الدین منا نے کہا کہ ”شاہین باغ“ جس کا فارسی میں باغیچوں کا باغ“ہے، نے پورے ملک کو نئی راہ دکھائی ہے۔ہم نے شاہین باغ کے احتجاج سے متاثر ہوکر پلاسی کے میدان میں احتجاج اس لیے شروع کیا ہے کہ یہ میدان تاریخی ہے اور استعماریت اور فاششٹ قوتوں کے خلاف جدو جہد کی علامت ہے۔اس لیے یہاں پر احتجاج کا ایک الگ مفہوم اور پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہی میدان ہے جہاں سراج الدولہ کی قیادت میں پہلی مرتبہ برطانوی استعماریت کو چیلنج کیا گیا تھا۔گرچہ یہاں اپنوں کی بغاوت کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرأت کا استعارہ یہ میدان بننے میں کامیاب ہوگیا۔اب ہم اس میدان سے ایک نئی جنگ کی شروعات کی ہے اور یہ وجود کی لڑائی ہے۔

1757میں بنگال کے آخری حکمراں مرزا محمد سراج الدولہ کی قیادت والی فوج کورابرڈ کلائیو کی قیادت والی برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے فوجیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔نواب سراج الدولہ کی حکمرانی میں بنگال، بہار، جھاڑ کھنڈ، اڑیسہ، سکم، تری پورہ،چھتس گڑھ کا کچھ علاقہ اور بنگلہ دیش کا پورہ علاقہ تھا۔

عبیداللہ شیخ جو چنداگھر کے باشی ہیں، نے کہاکہ میں ٹھیک سے چل اور دیکھ بھی نہیں پارہا ہوں،میں احتجاج میں شرکت کے قابل نہیں ہونے کے باوجود یہاں اس لیے آیا ہوں کہ اپنے ہی ملک میں غیر ہونے کا خطرہ منڈلانے لگاہے۔مجھے امید ہے کہ مرکزی حکومت اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوگی اور ملک کے سچے اور ایماندار لوگ اس کے خلاف متحد ہوں گے۔خیال رہے کہ شاہین باغ کی طرز پر مرشدآباد ضلع کے ہیڈ کوارٹر بہرام پور میں بھی بڑے پیمانے پر خواتین احتجاج کررہی ہیں۔

پلاسی کے میدان میں بڑی تعداد میں ترنمول کانگریس، سی پی ایم اور کانگریس کے مقامی لیڈر اپنی پارٹیوں کے جھنڈوں کے بغیر اس احتجاج میں شامل ہیں۔نیتاجی سبھاش چندر بوس منچ کے سکریٹری علی شیخ نے کہا کہ ہندوستان کے دستور کو بچانے کے لئے یہ میدان اہم کردار ادا کرے گا۔احتجاج میں شامل ترنمول کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی نصرالدین احمد نے کہا کہ میں یہاں سیاسی شناخت کے بغیر احتجاج میں شامل ہوں۔یہ ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جہاں سیاسی وفاداریوں سے اوپر اٹھ کر کالے قانون کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کا مقصد خوفناک شہریت قانون کے سنگین احساس کو ہرگھرتک پہنچانا ہے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے یہ قانون کس قدر خطرناک ہے۔.تاہم بی جے پی نے الزام عاید کیا ہے کہ یہ ایک سیاسی احتجاج ہے اور اس کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔بی جے پی لیڈر بسواجیت گھوش نے کہا کہ ترنمول کانگریس اور سی پی ایم اس کے ذریعہ وجود کی لڑائی لڑرہی ہے۔

Published: 28 Jan 2020, 7:32 PM