عتیق احمد کے بیٹے عمر کے قافلہ کی 30 گاڑیوں نے بغیر ٹول دیے پار کیا بیریئر، ایف آئی آر درج

ٹول ملازمین نے گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور دھمکی بھی دی گئی۔ ٹول پلازا انتظامیہ کی جانب سے نواب گنج تھانے میں معاملے کی تحریری شکایت دی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i

عتیق احمد کے بیٹے عمر احمد کو لکھنؤ جیل سے پریاگ راج لے جاتے وقت نواب گنج ٹول پلازہ پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ عدالت کے حکم پر عمر کو پولیس سیکورٹی میں اس کے چھوٹے بھائی آبان کے جنازے میں شرکت کے لیے پریاگ راج لایا جا رہا تھا۔ اسی دوران اس کے قافلے میں شامل تقریباً 25 سے 30 پرائیویٹ گاڑیوں نے ٹول ادا کیے بغیر بیریئر پار کر لیا۔

ٹول ملازمین نے گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور دھمکی بھی دی گئی۔ ٹول پلازا انتظامیہ کی جانب سے نواب گنج تھانے میں معاملے کی تحریری شکایت دے کر ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ پولیس کو دی گئی شکایت میں کئی گاڑیوں کے نمبر بھی درج کرائے گئے ہیں۔


شکایت کے مطابق 8 اگست 2026 کی شب تقریباً 3:50 بجے نواب گنج ٹول پلازہ کے بوتھ نمبر-3 پر عمر احمد کو پولیس کی تحویل میں ضلع جیل لکھنؤ سے پریاگ راج لایا جا رہا تھا۔ سرکاری گاڑیوں کے گزرنے کے بعد اس کے پیچھے بڑی تعداد میں گاڑیاں ٹول پلازہ پہنچیں۔ الزام ہے کہ قافلے میں شامل گاڑیوں کے ڈرائیورز نے ٹول بیریئر توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ ٹول ملازمین نے گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر ان کے ساتھ گالی گلوچ کی گئی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔

ٹول ملازمین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں نے تیز رفتار کے ساتھ اور خطرناک طریقے سے ٹول پلازہ پار کیا۔ اس دوران سرکاری ٹول بیریئر کو نقصان پہنچنے کے ساتھ محصولات کا بھی نقصان ہوا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 25 سے 30 گاڑیوں نے ٹول ادا کیے بغیر ٹول پلازہ پار کیا۔ ٹول انتظامیہ نے پولیس کو دی گئی شکایت میں کئی گاڑیوں کے نمبر فراہم کیے ہیں۔


ٹول انتظامیہ کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ٹول پلازہ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور شکایت میں دیے گئے گاڑیوں کے نمبروں کی بنیاد پر قافلے میں شامل لوگوں کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ ٹول انتظامیہ نے عمر کے ساتھ چل رہے قافلے کی گاڑیوں پر ٹول چوری، املاک کو نقصان پہنچانے، ملازمین کے ساتھ بدسلوکی اور دھمکی دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔