بریلی سنٹرل جیل میں 3 قیدیوں کی موت، ہنگامہ کے بعد جیل انتظامیہ نے دی صفائی!

بریلی جیل انتظامیہ نے تین قیدیوں کی ایک ہی دن ہوئی موت کے بعد صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل مدت سے بیمار تھے اور ان کا علاج بھی چل رہا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بیماری کی وجہ سے اچانک تین قیدیوں کی موت کا واقعہ بریلی سنٹرل جیل اور ضلع جیل میں سامنے آیا ہے۔ ان اموات کے بعد ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ آخر تین قیدی ایک ساتھ بیماری کی وجہ سے کیسے انتقال کر گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تینوں قیدی قتل کے الگ الگ معاملے میں تاحیات قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولس نے ڈاکٹروں کا ایک پینل تیار کر تینوں کا پوسٹ مارٹم کرایا اور پھر لاشوں کو ان کے اہل خاہن کے حوالے کر دیا۔

بریلی جیل انتظامیہ نے تین قیدیوں کی ایک ہی دن ہوئی موت کے بعد صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل مدت سے بیمار تھے اور ان کا علاج بھی چل رہا تھا۔ اس وضاحت کے بعد بھی کئی لوگ جیل انتظامیہ پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔

بہر حال، پیلی بھیت باشندہ رام چندر سال 2001 میں پانچ لوگوں کا قتل کرنے کے معاملے میں سنٹرل جیل میں بند تھے۔ عدالت نے انھیں تاعمر قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن گزشتہ کچھ ماہ سے وہ بیمار چل رہے تھے۔ اس کا لکھنؤ میں بھی علاج کرایا گیا تھا لیکن اتوار کی دیر شام ان کی موت ہو گئی۔ دوسری موت رام اوتار کی ہوئی جو کہ سبھاش نگر علاقے میں ہوئے قتل معاملہ کا قصوروار تھا۔ اس سلسلے میں وہ تاعمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ تیسری موت ہریدواری لال کی ہوئی۔ وہ بھی ضلع جیل میں تاعمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ بیماری کے دوران ان کی حالت بگڑنے پر ضلع اسپتال لے جایا گیا۔ لیکن وہاں ڈاکٹر نے انھیں مردہ قرار دیا۔