ہاتھرس واقعہ سے ناراض 236 لوگوں نے ہندو مذہب کو کہا خیر باد، ایف آئی آر درج

یو پی پولس اور انتظامیہ کے ذریعہ ہاتھرس واقعہ میں لاپروائی کی خبر سامنے آنے کے بعد غازی آباد ضلع میں والمیکی سماج سے تعلق رکھنے والے 236 لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کر بودھ مذہب اختیار کر لیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

غازی آباد میں والمیکی طبقہ کے 236 اراکین کے ذریعہ ہندو مذہب کو خیر باد کہتے ہوئے بودھ مذہب اختیار کیے جانے کے بعد ضلع پولس نے نامعلوم شخص کے خلاف مذہب تبدیلی کے لیے افواہیں پھیلا کر مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ اسی طبقہ سے جڑے ایک شخص نے ان الزامات کے سلسلے میں پولس سے رابطہ کیا تھا۔ شکایت کنندہ مونٹو چندیل والمیکی نے الزام عائد کیا کہ ذات پر مبنی تشدد کو اکسانے اور مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک مجرمانہ سازش کی شکل میں یہ مذہب تبدیلی کا عمل ہوا ہے۔ پولس نے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

چندیل نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا ہے کہ مذہب تبدیلی کے سرٹیفکیٹ میں بودھ مذہب اختیار کرنے والے لوگوں کا نام، تاریخ، پتہ اور رجسٹریشن نمبر شامل نہیں ہے۔ یہ واقعہ ہاتھرس معاملہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ غور طلب ہے کہ اتر پردیش کے ہاتھرس میں 14 ستمبر کو چار اونچی ذات کے لوگوں کے ذریعہ والمیکی طبقہ کی ایک لڑکی سے مبینہ طور پر عصمت دری کرنے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ واقعہ کے 15 دنوں بعد دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں لڑکی نے دم توڑ دیا تھا جس کے بعد ہاتھرس ضلع انتظامیہ نے فیملی کو بغیر بتائے اس کی آخری رسومات ادا کر دی تھی۔

پولس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 153-اے (مذہب، نسل، مقام پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور خیر سگالی کو بگاڑنے کی کوشش کرنے) اور 505 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولس سپرنٹنڈنٹ (سٹی) 2، غازی آباد، گیانیندر سنگھ نے خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کو بتایا کہ پولس نے ابھی اس سلسلے میں جانچ شروع نہیں کی ہے۔

گیانیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ "ہم نے شکایت کی بنیاد پر آج ایف آئی آر درج کی ہے۔ شکایت کنندہ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات، جس میں انھوں نے سرٹیفکیٹ کی تصدیق، مذکورہ تفصیلات کے بارے میں کہا ہے، اسے لے کر آگے کی جانچ جاری ہے۔"

بتایا جاتا ہے کہ مذہب تبدیلی کا یہ عمل 14 اکتوبر کو راج رتن اشوک راؤ امبیڈکر کی موجودگی میں ہوا تھا، جو بابا صاحب امبیڈکر کے پرپوتے ہیں۔ اس کے بعد بودھ سوسائٹی آف انڈیا نے مذہب تبدیل کرنے والے لوگوں کے درمیان سرٹیفکیٹ تقسیم کیا تھا۔

next